English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دوہری شہریت چھپانے پر سرکاری ملازمت ختم ہوجائے گی

القمر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین کے حوالے سے ایک انتہائی سخت اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب دوہری شہریت یا غیر ملکی رہائش چھپانے والے سرکاری افسران کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے گا۔

 اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے نئے قوانین متعارف کروادیے، اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی مقتدر حلقوں اور اہم سرکاری عہدوں پر بیٹھے افراد کی وفاداری کو صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ مشروط کرنا اور اہم ڈیٹا کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کے لیے نئے اور سخت ترین رولز متعارف کروائے ہیں۔

 نئے وفاقی قوانین کے تحت اگر کسی سرکاری ملازم نے اپنی دوہری شہریت یا غیر ملکی رہائشی اسٹیٹس کو چھپایا، تو وہ اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا کیوں کہ نئے قوانین کے تحت تمام سرکاری ملازمین پر کڑی شرائط عائد کر دی گئی ہیں۔

تمام سرکاری ملازمین کے لیے اب یہ لازمی ہوگا کہ وہ اپنی، اپنی شریکِ حیات (بیوی یا شوہر) اور زیرِ کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت، پاسپورٹس، مستقل رہائش یا امیگریشن اسٹیٹس کی مکمل تفصیلات حکومت کے سامنے ظاہر کریں۔

 پہلے سے ملازمت میں موجود تمام سرکاری افسران کو اپنی یہ تمام تفصیلات جمع کرانے کے لیے 90 دن کی مہلت دی گئی ہے۔

 نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنی تعیناتی کے وقت ہی یہ ڈیکلریشن جمع کرائیں اور اس کے بعد ہر سال باقاعدگی سے یہ تفصیلات فراہم کرتے رہیں۔

بتایا گیا ہے کہ حکومت نے غلط بیانی کرنے والوں کے خلاف انتہائی سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، اگر کسی ملازم کی جانب سے جمع کرایا گیا ڈیکلریشن یا معلومات جھوٹی ثابت ہوئیں، تو اس کی سرکاری ملازمت کا آرڈر شروع سے ہی مکمل طور پر کالعدم تصور کیا جائے گا۔

 غیر ملکی شہریت یا رہائشی اسٹیٹس کو دانستہ طور پر چھپانے کے عمل کو سول سرونٹس ایکٹ 1973ءکے تحت سنگین بدعنوانی اور مس کنڈکٹ شمار کیا جائے گا، جس کی سزا ملازمت سے فوری برطرفی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے