English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نئے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی اور اشیائے خور و نوش پر سیلز ٹیکس میں مزید اضافے کی تجاویز

القمر

اسلام آباد: حکومت نے نئے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی اور اشیائے خور و نوش پر سیلز تیکس میں مزید اضافے کی تجاویز تیار کی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے وفاقی بجٹ میں عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی کو موجودہ ڈھائی روپے سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر تک کرنے کا امکان ہے۔

اس اقدام سے حکومت کو قومی خزانے میں 90 ارب روپے سے زائد کی اضافی آمدنی متوقع ہے۔

حکومت نے بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل، چینی، کیچپ اور چائے کی پتی سمیت درجنوں ضروری اشیائے خورونوش کو سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس اقدام کے بعد ان مصنوعات پر پرچون قیمت درج کرنا لازمی ہوگا جس سے عام آدمی کے لیے اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ میں مجموعی طور پر 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ تاجروں کے لیے ایک نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے سیلز والے تاجروں کو 25 ہزار روپے فکس ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جس کے عوض انہیں آڈٹ سے استثنیٰ ملنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا دباؤ بھی موجود ہے۔

دوسری جانب بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ کی مدت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع کے لیے جاری ٹیکس استثنیٰ کو بھی ختم کیے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

شعبہ صحت کے لیے مجموعی طور پر 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں نئے اور پرانے منصوبے شامل ہیں۔ اسلام آباد کینسر اسپتال کے لیے تقریباً 1.3 ارب روپے، انسداد ہیپاٹائٹس سی پروگرام کے لیے ڈیڑھ ارب روپے اور انسداد ذیابیطس پروگرام کے لیے ایک ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پمز اسپتال میں کریٹیکل کیئر سہولیات کی توسیع کے لیے بھی فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے