English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ میں مٹی کا شدید طوفان، کراچی بھی جزوی متاثر، بجلی کا نظام ٹھپ، 5 افراد زخمی

القمر

سکھر: سندھ کے مختلف اضلاع میں منگل کی شب آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ کئی شہروں میں نظام زندگی مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا ہے اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طوفانی ہواؤں کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے جبکہ گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر لگی سولر پلیٹیں اڑ گئیں۔ مورو سمیت کئی علاقوں میں سائن بورڈ گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی مٹی کا کہیں ہلکا کہیں درمیانہ طوفان ہی دیکھنے میں آیا، جس سے گھروں میں مٹی پھیل گئی۔

اُدھر حیدرآباد، نوابشاہ، دادو اور دیگر شہروں میں تیز ہواؤں کے بعد ہونے والی بارش نے جہاں گرمی کا زور توڑ دیا وہیں بجلی کا نظام بری طرح متاثر کیا ہے۔

نجی ٹی و ی کی رپورٹ کے مطابق سیپکو ریجن میں موسمی صورتحال کے باعث ٹرانسمیشن لائنیں، ٹاورز اور بجلی کے پولز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ 220 اور 132 کے وی کے متعدد سرکٹس ٹرپ کر جانے سے مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز بند ہو گئے ہیں جس سے وسیع علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں۔

بجلی کی بندش سے لاڑکانہ، شکارپور، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز اور دیگر درجنوں اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ سیپکو انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اپنی تکنیکی ٹیموں کو متحرک کر دیا ہے تاکہ خراب ہونے والی لائنوں اور پولز کی فوری مرمت کا کام مکمل کیا جا سکے۔

سیپکو کے حکام نے بتایا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر فیلڈ ٹیمیں متاثرہ مقامات پر موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بجلی کی فراہمی کو جلد از جلد بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

محکمہ بجلی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ہنگامی حالات کے پیش نظر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ مرمتی عملہ بجلی کے کھمبوں اور ٹاورز کی بحالی کے لیے کوشاں ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں زندگی کو معمول پر لایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے