امریکا کے نیشنل انسدادِ دہشت گردی مرکز کے سابق سربراہ جو کینٹ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے فوجیوں کے فوری انخلا کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال امریکی اہلکاروں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا باعث بن رہی ہے۔
سماجی رابطے کے ذریعے جاری اپنے بیان میں جو کینٹ نے کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوجیوں کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں، تاہم اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ انہیں کسی ممکنہ جانی نقصان سے قبل محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات، اڈے اور بحری اثاثے اب پہلے کی طرح دفاعی برتری کی علامت نہیں رہے بلکہ بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ خود ایک چیلنج کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مقامات جو ایران کی عسکری رسائی میں آتے ہیں، امریکی مفادات کے لیے اضافی خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
جو کینٹ کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی بعض قوتوں کو اپنی مرضی کے وقت اور حالات میں کشیدگی بڑھانے یا محاذ آرائی دوبارہ شروع کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ ان کے بقول ایسی صورتِ حال میں امریکی فوجیوں اور تنصیبات کو براہِ راست خطرات لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
سابق امریکی عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن کو خطے میں اپنی عسکری حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے اور ایسے اقدامات اختیار کرنے چاہییں جو امریکی اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں فوجیوں کی سلامتی کو ہر دوسری ترجیح پر فوقیت دی جانی چاہیے۔
جو کینٹ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال اور علاقائی تناؤ پر عالمی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ مختلف حلقوں میں خطے میں امریکی فوجی کردار اور اس کے مستقبل کے حوالے سے بحث بھی جاری ہے۔
