سینٹ پیٹرزبرگ: روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جاری بین الاقوامی معاشی فورم کے عین آغاز پر یوکرین نے ڈرون حملے کیے جس سے پورے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد متاثرہ تنصیبات سے اٹھتا سیاہ دھواں دور دور تک دیکھا گیا ہے۔
یوکرین نے اپنے حملوں میں سینٹ پیٹرزبرگ کے آئل ٹرمینل اور اہم کرونشٹاڈ بحری اڈے کو ہدف بنایا ہے۔ یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں روس کے ایک جنگی جہاز کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد روسی دفاعی نظام پر بھی سوال اٹھ گئے ہیں۔
سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف نے تصدیق کی ہے کہ حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی ہلاکت کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی تاہم روسی حکومت ان حملوں کا سخت جواب دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ان حملوں کو روسی بمباری کا منصفانہ ردعمل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر روس کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو یوکرین اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت مزید ٹھوس کارروائیاں کرنے سے بالکل گریز نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ اس اہم 3 روزہ کانفرنس کو ماضی میں روسی ڈیووس کہا جاتا تھا اور اس سال 130 ممالک کے 20 ہزار سے زائد مندوبین اس میں شریک ہیں۔ یوکرین کا مقصد بظاہر اس اہم معاشی فورم کو متاثر کرنا اور عالمی دنیا کے سامنے روس کی کمزوری کو ظاہر کرنا تھا۔
فورم کے مقام کے قریب دھواں اٹھنے سے تقریب میں شریک مندوبین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی اہم تقریر جمعہ کے روز متوقع ہے، جس میں وہ ممکنہ طور پر ان حملوں کے خلاف سخت پالیسی کا اعلان کریں گے۔
یاد رہے کہ 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ فورم روس کی سفارتی تنہائی کی علامت بن چکا ہے۔ مغربی رہنماؤں کی عدم موجودگی میں اب اس فورم میں زیادہ تر روس کے اتحادی ممالک کے نمائندے شریک ہو رہے ہیں تاکہ معاشی روابط کو برقرار رکھا جا سکے۔
