واشنگٹن: امریکی حکومت نے بھارت سمیت 60 ممالک پر اضافی درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف ممالک کی برآمدات پر 10 سے 12.5 فیصد تک ڈیوٹی لگائی جا سکتی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت سمیت متعدد بڑے تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا اور میکسیکو سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام ’’جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات‘‘ کی عالمی تجارت کے خلاف تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے، بعض ممالک میں اس حوالے سے قوانین ناکافی ہیں یا ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
رپورٹ میں بھارت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ان معیشتوں میں شامل ہے جہاں جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی روک تھام کے قوانین یا تو کمزور ہیں یا ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا جبکہ بعض عالمی سپلائی چینز میں ایسے خام مال یا مصنوعات شامل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
تجویز کے مطابق بھارت، چین، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ سمیت 54 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف جبکہ کینیڈا، میکسیکو، برطانیہ، یورپی یونین اور تائیوان سمیت دیگر ممالک پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ ٹیرف فوری طور پر نافذ نہیں ہوں گے بلکہ 6 جولائی تک عوامی آراء طلب کی گئی ہیں جبکہ 7 جولائی کو اس حوالے سے سماعت ہوگی جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔