خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق کارروائیاں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع مہمند میں کی گئیں، جہاں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے عناصر کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 3 اور 4 جون کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارج کے ٹھکانے کی نشاندہی پر فورسز نے آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 2 دہشت گرد مارے گئے۔
اسی دوران ضلع مہمند میں بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن انجام دیا گیا، جہاں سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے مزید 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ علاقے میں مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دونوں اضلاع میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہیں تاکہ ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشت گردوں کا سراغ لگا کر علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ان کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن، استحکام اور سلامتی کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت، سیکیورٹی ادارے اور پوری قوم یکجا ہیں اور ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔