اسلام آباد: دفتر خارجہ پاکستان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسحاق ڈار نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 29 مئی کو مارکو روبیو کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی خفیہ یا حساس معلومات شیئر کیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولی مؤقف، علاقائی استحکام، باہمی احترام اور تعمیری سفارت کاری پر مبنی ہے جبکہ کسی بھی ملک کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسحاق ڈار کے حالیہ دورۂ امریکا کے دوران بھی امریکی حکام کے ساتھ علاقائی صورتحال اور جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ملاقاتوں میں تمام چیلنجز کے پائیدار اور پرامن حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا اور خطے میں استحکام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
