اسلام آباد: پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے ملک میں استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ملک میں غیر دستاویزی اور پرانے موبائل فونز کی درآمد اور گردش کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
سال 2026ءکے پہلے پانچ ماہ یعنی جنوری تا مئی کے دوران ہی پاکستان میں 3 لاکھ 7 ہزار 593 استعمال شدہ موبائل فونز درآمد کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 5 کروڑ 49 لاکھ 3 ہزار 54 ڈالر سے زائد بنتی ہے۔
اپنے ایک بیان میں ایسوسی ایشن نے ان فونز سے وابستہ پوشیدہ خطرات اور ملکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں کہا ہے کہ ٹیکس چوری، غیر قانونی درآمدات اور قیمتوں کو کم ظاہر کرنے کی وجہ سے حکومتی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔
پرانے اور مرمت شدہ فونز کو اکثر مارکیٹ میں نیا بنا کر بیچا جاتا ہے، جس سے صارفین کو وارنٹی اور پائیداری کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
استعمال شدہ فونز پر بڑھتے ہوئے انحصار کی وجہ سے پاکستان کی مقامی موبائل انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے، جس سے نئی سرمایہ کاری اور نوکریوں کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز کو تبدیل یا کلون کرکے ا سمگلنگ، فراڈ اور سائبر کرائمز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تحقیقات مشکل ہو جاتی ہیں۔
سیکنڈ ہینڈ موبائل کی مارکیٹ کو آف ریکارڈ لین دین اور منی لانڈرنگ کے لیے بھی استعمال کیے جانے کا خطرہ ہے، ایسے موبائل فونز جن کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں ہوتا یا جن میں تبدیلی کی گئی ہو، انہیں تخریب کاری اور مجرمانہ سرگرمیوں میں آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک سخت ریگولیٹری نظام وضع کیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو دستاویزی بنایا جا سکے۔
اسمگلنگ کا خاتمہ ہو، ملک میں مقامی سطح پر بننے والے اور پی ٹی اے سے منظور شدہ فونز کی فروخت کو فروغ مل سکے، اس اقدام سے ناصرف حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
