عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اعلان اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کو قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور ایران و امریکا کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات بڑھنے سے توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی آئی ہے۔ اسی تناظر میں آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی توقعات بھی پیدا ہوئی ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتیں نیچے آگئی ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.05 ڈالر یا 3.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی فی بیرل قیمت 94.76 ڈالر تک آ گئی۔
اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 3.24 ڈالر یا 3.4 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد اس کی فی بیرل قیمت 92.78 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران کے کویت پر حملوں اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی کارروائیوں کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اس دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 97.81 ڈالر جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 96.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔
توانائی منڈی کے تجزیہ کار جان ایوانز کے مطابق ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے بند کیے جائیں، بالخصوص حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں روکی جائیں، اور حالیہ جنگ بندی معاہدہ اس سمت میں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
