لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے ریپ کیس میں مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
فیصلہ جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا۔ دونوں مجرموں نے انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف 25 مارچ 2021ء کو ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
فیصلے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرہاد علی شاہ نے کہا کہ موٹروے پر خاتون کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ پوری دنیا میں زیرِ بحث آیا تھا اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد ایک شہری کی 15 پر کال کے ذریعے پولیس کو اطلاع ملی جبکہ متاثرہ خاتون کی فراہم کردہ معلومات اور فرانزک شواہد کی مدد سے تفتیش کا آغاز کیا گیا، عابد ملہی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے شواہد سے میچ ہوا جبکہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
پراسکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے کیس کی پیروی میں اہم کردار ادا کیا اور دن رات محنت کرکے ملزمان کو سزا دلوائی، ہائیکورٹ میں بھی پراسیکیوشن نے مؤثر دلائل دیے جس کے نتیجے میں سزائیں برقرار رہیں۔
فرہاد علی شاہ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جرائم کی اطلاع دینے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، جیسا کہ اس کیس میں ایک شہری کی بروقت اطلاع نے تحقیقات میں اہم کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر 2020ء کو لاہور کے قریب موٹروے پر رات کے وقت دو ملزمان نے ڈکیتی کے بعد ایک خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ پولیس نے تفتیش کے بعد پہلے شفقت بگا اور بعد ازاں عابد ملہی کو گرفتار کیا تھا۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے 20 مارچ 2021ء کو دونوں مجرموں کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت، یرغمال بنانے کے جرم میں عمر قید اور ڈکیتی کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنائی تھی، جسے اب لاہور ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔
