لاہور: گھریلو تنازع کے بعد جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے کے الزام پر بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کرایا گیا، جس پر لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ شکایت کے مطابق گاڑی بیوی کی ملکیت تھی اور شوہر کے پاس بطور امانت موجود تھی، جبکہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی بیوی کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور شوہر صرف اسے استعمال کر رہا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے مؤقف کے مطابق مقدمہ خاندانی اختلافات کے باعث درج کرایا گیا، جبکہ بیوی نے جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں الگ دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شکایت کنندہ خود فیملی کورٹ میں گاڑی کو جہیز کا حصہ قرار دے چکی ہے، تاہم ایف آئی آر میں زیر سماعت خاندانی مقدمے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ گاڑی اب بھی بیوی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ مقدمہ میاں بیوی کے درمیان کشیدہ تعلقات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزم تفتیش میں شامل ہو چکا ہے اور ریکارڈ پر بدنیتی کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود باجوہ نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض شہری کی عبوری ضمانت کی توثیق کر دی۔
