مدینہ منورہ ایئرپورٹ پر 400 سے زائد پاکستانی حجاج رات بھر سے پرواز کے منتظر ہیں، جہاں ان کے مسائل سننے والا نہیں۔
پی آئی اے کی پرواز PK4228 کے ذریعے مدینہ منورہ سے کراچی روانہ ہونے کے لیے آئے ہوئے 400 سے زائد پاکستانی حجاج گزشتہ رات بھر سے مدینہ ایئرپورٹ پر انتظار کی اذیت میں مبتلا ہیں، تاہم انہیں پرواز کی روانگی کے حوالے سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
متاثرہ حجاج کے مطابق پرواز نے صبح 4 بجے مدینہ سے کراچی روانہ ہونا تھا، جبکہ مسافروں کو رات تقریباً 11 بجے ہی ایئرپورٹ پہنچا دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود صبح 5:30 بجے تک نہ پرواز کے بارے میں کوئی اطلاع دی گئی اور نہ ہی کوئی ذمہ دار نمائندہ حجاج کی رہنمائی کے لیے موجود ہے۔
حجاج کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر خواتین، مردوں اور بچوں سمیت 400 سے زائد پاکستانی شہری موجود ہیں جو شدید پریشانی اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو پی آئی اے کا کوئی نمائندہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے موجود ہے اور نہ ہی پاکستان حج مشن کی جانب سے کوئی مؤثر معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
متاثرہ حاجیوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج مشن اپنی کارکردگی کے دعوے کر رہا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج آپریشن کی تکمیل کے بعد متعلقہ حکام کو اپنی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
حجاج کرام نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور سیکڑوں پھنسے ہوئے حجاج کی وطن واپسی کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ضرورت ہو تو متبادل طیارے کا انتظام کیا جائے تاکہ حجاج کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بحفاظت اپنے گھروں کو واپس پہنچ سکیں۔
