لاہور: پنجاب بھر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر نے عوام کو مشکل میں ڈال دیا ہے، جہاں سورج کی تپش نے معمولات زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں صبح سویرے ہی درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ پارہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے۔ گرمی کی شدت اب صرف دن تک محدود نہیں بلکہ راتوں کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے 8 سے 12 جون تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں شدید ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کیا ہے۔ بالائی پنجاب میں درجہ حرارت 44 اور جنوبی پنجاب کے میدانی علاقوں میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہر صورت الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے کہا کہ گرمی کی شدت کے باعث گرد آلود ہوائیں چلنے اور طوفان کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے شہریوں کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ پانی پینے، خود کو ہائیڈریٹ رکھنے اور بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو شدید دھوپ سے بچانے کی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ریسکیو 1122 کو ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے مریضوں کی مدد کے لیے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ شہری علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کر کے پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ کاشتکاروں کو مویشیوں اور فصلوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو کی موجودہ لہر کے دوران برف پگھلنے کی رفتار میں بھی تیزی آ سکتی ہے۔ شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہی اس شدید گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں، کیونکہ محکمہ موسمیات نے مزید دو دن تک موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
