اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ سے تجاویز کی منظوری کا انتظار کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے ٹیکس نظام میں تبدیلیوں کے اہم پیکیج تیار کر لیے ہیں۔
بجٹ تجاویز میں تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس سلیب میں کمی، سپر ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد کٹوتی اور برآمدی شعبے پر عائد ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کی سفارش شامل کی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا ہے۔
پراپرٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد مراعات اور سہولتوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس شعبے کی ترقی سے ملکی معیشت کو سہارا ملے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔
دوسری جانب حکومتی سطح پر بعض مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔ سولر پینلز، ہائبرڈ گاڑیوں اور تقریباً بیس سے زائد دیگر اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس کو اٹھارہ فیصد تک لے جانے کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ساتھ سنجیدہ مشاورت جاری ہے۔
ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر کم شرح ٹیکس برقرار رکھنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجویز توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے پیش کی گئی ہے جسے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے۔
حکومت کے لیے ٹیکس وصولی کے اہداف کا حصول ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ وفاقی ادارہ برائے محصولات کے لیے اگلے مالی سال کے دوران 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جو ملکی معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
اس بڑے ہدف کے حصول اور مالیاتی آپشنز پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مسلسل بات چیت جاری ہے۔ ان تجاویز کی منظوری کے بعد ہی حتمی بجٹ کا اعلان کیا جائے گا جس سے عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے میں بڑی مدد مل سکے گی۔
