English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خیبرپختونخوا کے حقوق پر شدید تحفظات، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاقی وفد سے ملاقات

القمر

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں وفاقی مذاکراتی ٹیم نے ملاقات کی، جس میں صوبے کے مالی، آئینی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ اگر صوبے کے حقوق کی فراہمی میں تاخیر جاری رہی تو قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی۔

ملاقات میں عمران خان سے مشاورت، این ای سی اجلاس، ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی فنڈز، توانائی، گندم کی فراہمی، پن بجلی منصوبوں اور بین الحکومتی امور سمیت متعدد اہم معاملات زیر غور آئے، اہم قومی فیصلوں سے قبل صوبائی حکومت کی سیاسی قیادت سے مشاورت ناگزیر ہے اور اسی اصول کے تحت وہ بھی اپنی قیادت سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی وفد کو بتایا کہ خیبرپختونخوا کے مالی و ترقیاتی حقوق میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے، آئل اینڈ گیس انکم (اے آئی پی) کی مد میں مختص فنڈز 37 ارب روپے سے کم کر کے 27 ارب روپے کر دیے گئے ہیں جبکہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کو 66 ارب روپے سے کم کر کے 56 ارب روپے تک محدود کیا گیا ہے جو صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضم شدہ اضلاع کا قومی مالیاتی ایوارڈ میں حصہ گزشتہ آٹھ برس سے فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث ان علاقوں کی ترقی متاثر ہو رہی ہے، وفاقی سطح پر بارہا ملاقاتوں کے باوجود مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

سہیل آفریدی نے پنجاب سے گندم کی فراہمی میں رکاوٹوں، گیس کے حقوق اور پن بجلی منصوبوں سے متعلق مسائل بھی اٹھائے، خیبرپختونخوا روزانہ بڑی مقدار میں گیس پیدا کرتا ہے لیکن صوبے کے عوام کو بدستور گیس کی قلت اور لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم آئینی اصولوں کے منافی ہے اور اسے فوری طور پر درست کیا جانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے سوات میں مکمل ہونے والے ڈیم منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی انجینئرز کو این او سی جاری نہ ہونے کے باعث منصوبہ فعال نہیں ہو سکا جبکہ بس ٹرمینل منصوبہ بھی این او سی کے مسائل کے باعث تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی ادارے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں ختم کریں تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پنجاب خیبرپختونخوا کو گندم فراہم نہیں کرنا چاہتا تو آئین کے آرٹیکل 151 اور 158 پر نظرثانی کی جائے، کیونکہ یہ دفعات بین الصوبائی تجارت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دیتی ہیں، آئین پر مکمل اور غیر امتیازی عملدرآمد ضروری ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے بس ٹرمینل منصوبے کے لیے درکار این او سی 24 گھنٹوں میں جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے تحفظات اور مطالبات کو وزیراعظم اور متعلقہ وفاقی فورمز پر اٹھایا جائے گا تاکہ ان کا حل ممکن بنایا جا سکے۔

ملاقات کو دونوں حکومتوں کے درمیان جاری مالی و انتظامی تنازع کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، حتمی فیصلے آئندہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں متوقع ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے