English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سلامتی کونسل: پاکستان کا افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کا دوٹوک مطالبہ

القمر

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے کئی برس بعد بھی افغانستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ انسانی ہمدردی، تجارت اور سفارتی سطح پر تعاون کی کوشش کی تاکہ افغانستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ افسوسناک طور پر افغانستان دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش خراسان اور دیگر گروہ آزادانہ سرگرم ہیں۔ ان تنظیموں کی موجودگی پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستانی مندوب نے انکشاف کیا کہ صرف 2025 کے دوران پاکستان میں 5300 سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان حملوں میں استعمال ہونے والے جدید ہتھیار اور ڈرونز غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت پیچھے رہ جانے والے اسلحے کا حصہ ہیں۔

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ طالبان کا دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی سے گریز ان کی ملی بھگت کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے اور اب ہٹ دھرمی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے بین الاقوامی رپورٹوں میں حقائق کو نظر انداز کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران کی اصل وجہ طالبان کی ناکام پالیسیاں ہیں۔ خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی اور غیر قانونی معیشت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جس کا براہ راست اثر خطے پر پڑ رہا ہے۔

سفیر پاکستان عاصم افتخار نے زور دیا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے ، طالبان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ پاکستان دوحہ عمل اور موزیک ایکشن پلان کے تحت پرامن حل کا خواہاں ہے، لیکن دہشت گردی کا قلع قمع کرنا طالبان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے