انہیں طبیعت کی خرابی کے باعث نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے
مرحوم نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو سے کیا 1988 سے پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا
نماز جنازہ اور تدفین میں جاوید شیخ، فیصل سبزواری، قوی خان سمیت دیگر فنکاروں و عزیز اقارب کی شرکت
کراچی(کلچرل رپورٹر) سینئر ٹی وی آرٹسٹ قاضی واجد مختصر علالت کے بعد87 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئے، انہیں ہفتے کے روز طبیعت کی خرابی کے باعث نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ قاضی واجد نے ریڈیو پاکستان سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔ قاضی واجد کو 1988ء میں پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تھا۔ انہوں نے اسٹیج ڈراموں میں بھی حصہ لیا، تاہم ٹی وی ان کی پہچان بنا، ملک میں ٹیلی وژن کی آمد کے بعد خدا کی بستی میں راجا کا یادگار کردار ادا کیا، جبکہ ان کے مشہور ڈراموں میں کرن کہانی، آنگن ٹیڑھا، تعلیم بالغان، دھوپ کنارے، تنہائیاں سمیت دیگر شامل ہیں۔ اداکار جاوید شیخ نے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قاضی واجد بہرور سبزواری کے ہمراہ 2 ہفتے قبل سعودی عرب بھی گئے تھے۔قاضی واجد کی نماز جنازہ گلشن اقبال بلال مسجد میں ادا کی گئی جبکہ انہوں نے عیسیٰ نگری کے مقامی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا ان کی نماز جنازہ میں جاوید شیخ، فیصل سبزواری، قوی خان اور دیگر فنکاروں نے شرکت کی۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شریک فنکاروں، دانشوروں، ادیبوں نے شرکت کی جن میں یاور مہدی، جاوید شیخ، ایوب کھوسہ، قوی خان، منور سعید، بہروز سبزواری، روبینہ اشرف، بشریٰ انصاری، شہزاد رضا، ظہیر خان، شاہد پاشا، اقبال لطیف، نجم الدین شیخ، کاشف گرامی، احمد شاہ، رضوان صدیقی، نیرہ نور کے خاوند شہریار زیدی، عزیز وارثی، انور کمال، ٹیو، عدنان صدیقی، اختر حسنین، محمود احمد خان اور اعجاز فاروقی کے علاوہ فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اطہر جاوید صوفی صدر عبدالوسیع قریشی، ذیشان صدیقی، قیصر مسعود جعفری، راشد لطیف کراچی پریس کلب کے سیکریٹری مقصود یوسفی وغیرہ شامل تھے۔
قاضی واجد کے انتقال پر
اقبال یوسف کااظہار تعزیت
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پیام پاکستان کے چیئر مین اور سابق صوبائی مشیر اقبال یوسف نے ہر دلعزیز فنکار و صداکار قاضی واجد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ قاضی واجد کی فن کے شعبے سے 70سالہ وابستگی رہی انہوں نے ریڈیو ، ٹی وی اور پاکستان کی فلم انڈسٹری کے لئے یاد گار کردار اد کیئے وہ اپنے اخلاق ، عاجزی و خلوص اور شگفتہ بیانی سے ہر دلعزیز تھے ان کے انتقال سے فن کی دنیا کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے وہ منفرد کردار کے حامل تھے اور ان کا خلاء پورا نہیں کیا جا سکتا ۔ اقبال یوسف نے ان کے لواحقین سے ہمدردی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دُعا کی ہے اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطافرئے (آمین )

