English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی ٗ اختیار استعمال کرینگے ٗ چیف جسٹس

مقدمات میں سوالات پوچھنا کیا پارلیمنٹرینز کی توہین ہے ؟پارلیمنٹ سپریم ہے مگر اس کے اوپر بھی ایک چیز ہے اور وہ آئین ہے
عدالت قانون سازی کے جائزے کا اختیار رکھتی ہے ٗ ہرادارے کیلئے کچھ حدود مقرر ہیں ٗ میڈیا کمیشن کیس میں سماعت
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بناسکتی اور عدالت قانون سازی کے جائزے کا اختیار رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کرسکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے لیکن پارلیمنٹ کے اوپر بھی ایک چیز ہے وہ آئین ہے، پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بناسکتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک کیس میں ہم نے ریمارکس نہیں دیئے کچھ سوالات پوچھے، صرف پوچھا کہ فلاں شخص اہل ہے یا نہیں، مقدمات میں سوالات اٹھتے ہیں، کیا سوالات پوچھ کر ہم نے پارلمینٹرینز کی توہین کردی ہے؟ ٹھیک ہے اب سوال نہیں پوچھیں گے، ہم فیصلے کے وقت آپس میں پوچھیں گے کیس میں کیا ہوا، میںوضاحت دے کر اپنی کمزوری نہیں بنانا چاہتا۔ ہمیں انتظامیہ کے عمل اور بنیادی حقوق کو دیکھنا ہے، عدالت قانون سازی کے جائزے کا اختیار رکھتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت کو نیک نیتی سے استعمال کریں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایوان میں اس بات پر بحث ہونی چاہئے کہ ایوان کو کام کرنے، تعیناتیوں اور دیگر فیصلے کرنے کا حق ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم کی جانب سے عدالت میں عوامی نمائندوں کی ٹضحیک کے حوالے سے تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ریمارکس نہیں دیتے بلکہ سوال پوچھتے ہیں اور کیا سوال پوچھنا پارلمینٹرینز کی تضحیک ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی۔ میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہمیں انتظامیہ کے عمل اور بنیادی حقوق کو دیکھنا ہے کیونکہ عدالت قانون سازی کے جائزے کا اختیار رکھتی ہے، ہر ادارے کیلئے کچھ حدود مقرر ہیں۔ سماعت کے آغاز میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کا کہنا تھا کہ میڈیا کمیشن کی کئی سفارشات پر عملدرآمد ہوگیا ہے اب صرف پیمرا کی حکومتی اثر سے آزادی کی سفارش پر عمل نہیں ہوا۔ رانا وقار کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق حکومت پیمرا کو ہدایت دے سکتی ہے جبکہ عدالت کو پالیسی کا جائزہ لینے کا مکمل اختیار سے ہٹ کر بیان دے رہے ہیں کیونکہ حکومت تو کہتی ہے عدالت کو کوئی اختیار نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے