English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مقبوضہ کشمیر میں نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ تنخواہوں سے محروم

القمر


سری نگر،28ستمبر (ساؤتھ ایشین وائر)
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قریب دو ماہ سے جاری نامساعد اور غیر یقینی صورتحال کے باعث جہاں لوگ گوناں گوں پریشانیوں سے دوچار ہیں وہیں نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ کا جینا بھی دو بھر ہوگیا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی طرح نجی تعلیمی اداروں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں مسلسل معطل ہیں جس کے باعث نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ گزشتہ دو ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں۔
ایک نجی تعلیمی ادارے میں کام کرنے والے ایک استاد نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پرساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ تنخواہ وقت پر نہ ملنے سے میری مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ‘میں ایک نجی تعلیمی ادارے میں بحیثیت استاد تعینات ہوں، اگرچہ میری تنخواہ تسلی بخش نہیں ہے لیکن پھر بھی کفایت شعاری کرکے گھر کا گزارہ ہوجاتا تھا لیکن اب اسکول بند ہونے سے تنخواہ وقت پر نہیں ملتی ہے جس کے باعث مجھے سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے’۔
ایک اور پرائیویٹ اسکول میں کام کرنے والے ایک استاد نے ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اب مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کر رہا ہوںان کا کہنا تھا: ‘میں ایک پرائیویٹ اسکول میں کام کرکے گھر چلاتا تھا لیکن موجودہ حالات کے باعث اسکول تقریبا بند ہیں اور ہمیں تنخواہ بھی نہیں مل رہی لہذا میں گھر چلانے کے لئے اب مزدوری کرتا ہوں’۔ محمد ظفر نامی ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر نے کہا کہ میں نے نوکری کو خیرباد کہہ کے نانبائی کا کام شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘میں بھی ایک اچھے نجی تعلیمی ادارے میں گزشتہ پانچ برسوں سے بحیثیت استاد کام کرتا تھا لیکن جب ماہ اگست کی پانچ تاریخ سے یہاں سب کچھ ٹھپ ہوگیا تو میں نے استعفیٰ دے دیا اور نانبائی کا کام شروع کردیا۔”
ایک پرائیویٹ اسکول کے مالک نے بتایا کہ والدین کی طرف سے فیسیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے اساتذہ کی تنخواہیں دینے میں مشکلات در پیش ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے کبھی بھی اساتذہ کی تنخواہیں نہیں روکی ،ہمیشہ وقت پر اساتذہ اور دیگر عملے کو تنخواہ دی ہے لیکن موجودہ حالات کے باعث والدین فیس نہیں دے رہے جس کے باعث ہمیں بھی تنخواہیں واگزار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پررہا ہے’۔
وادی میں پانچ اگست سے تعلیمی سرگرمیاں مسلسل متاثر ہیں، اعلی تعلیمی ادارے بشمول یونیورسٹیز، کالجز اور ہائر سکینڈری سکولز لگاتار بند ہیں جبکہ ہائی اسکول سطح تک بھی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہیں۔ تاہم کچھ علاقوں میں بعض فرض شناس اساتذہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں برابر مصروف عمل ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ہی بھارت کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں اور کرفیو کے باعث انتظامی عملے کو فرائض کی انجام دہی کے لیے پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہی نہیں بلکہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں تاجر بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں کیونکہ دکانیں اور ان کے کاروبار اب تک بحال نہیں ہوسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے