کھانے پینے کی اشیاء ، بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات، صحت و تعلیم کے اخراجات اور تعمیراتی میٹریل بھی مہنگا ہوگیا
ماہ ستمبر میں افراط زر کی شرح 11.4 فیصد تک پہنچ گئی، شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح زیادہ رہی، رپورٹ
کراچی (کامرس رپورٹر) ایک سال میں مہنگائی کی رفتار دو گنا ہو گئی، ستمبر میں افراط زر کی شرح 11.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ کھانے پینے کی اشیا، بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات، صحت و تعلیم کے اخراجات اور تعمیراتی میٹریل بھی مہنگا ہوگیا۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر 2018ء میں افراط زر کی شرح 5.4 فیصد تھی، جولائی تا ستمبر میں افراط زر کی شرح 10.08 فیصد رہی، شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح ستمبر میں 11.6 فیصد رہی، اگست میں شہری مہنگائی 10.6 فیصد تھی، دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد رہی۔ ستمبر 2018ء کے مقابلے میں ستمبر 2019ء میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمت میں 15.83 فیصد اضافہ ہوا، پھل سبزیوں اور دیگر تازہ غذائی اجناس کی قیمت میں 26.68 فیصد، گھروں کے کرایوں، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 6.62 فیصد، صحت کے اخراجات ایک سال میں 11.67 فیصد، تعلیمی اخراجات میں 6.18 فیصد، ٹرانسپورٹ کی لاگت 17.76 فیصد، ملبوسات اور فٹ ویئرز کی قیمتیں 8.94 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک سال میں پیاز 109 فیصد، مرغی 78 فیصد، دال مونگ 47 فیصد مہنگی ہوگئی چینی کی قیمت میں 37 فیصد اضافہ ہوا، آلو کی قیمت میں 36 فیصد، دال ماش 36 فیصد، تازہ سبزیاں 28 فیصد مہنگی ہوئیں۔

