تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر مشتعل ہزاروں ملازمین کے جمع ہونے سے ایم اے جناح روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا
کچرے سے بھرے ٹرکوں سے اٹھنے والا تعفن سے کے ایم سی افسران اور علاقہ مکینوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا، مشیر مالیات سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کے ایم سی کے ہزاروں ملازمین نے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر کچرے سے بھرے ٹرکوں کے ساتھ بلدیہ کراچی کی عمارت کا گھیرائو کرلیا جبکہ درجنوں ٹرک ایم اے جناح روڈ پر کھڑے کر دیے گئے، بلدیاتی ملازمین نے مطالبات کی منظوری کے لیے ایم اے جناح روڈ پر تین گھنٹے تک دھرنا دیا جس سے ایک طرف تو تبت سینٹر سے ٹاور جانے والی ٹریفک معطل ہو گئی، دوسری جانب کچرے سے اٹھنے والے تعفن سے کے ایم سی افسران اور لائٹ ہائوس کے تاجروں کا بُرا حال ہوگیا کئی گھنٹوں تک کھانستے رہے۔ بلدیہ کراچی کے مشیر مالیات اور مزدور رہنمائوں کے مابین ہونے والے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم ہوا تو علاقہ مکینوں نے سکھ کا سانس لیا، حکومت سندھ کی جانب سے تنخواہوں، پنشن میں 15 فیصد اضافے کے باوجود اضافی تنخواہوں کی عدم ادائیگی چار ہزار ریٹائرڈ ملازمین کو واجبات کی چار سال سے عدم ادائیگی کے خلاف کے ایم سی ہیڈ آفس کا گھیرائو کرکے ایم اے جناح روڈ پر کچرا گاڑیاں کھڑی کر کے تین گھنٹے تک دھرنا دیا۔ اس موقع پر پولیس، رینجرز اور سٹی وارڈنز کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔ دھرنے کے شرکاء سے میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس کے صدر سید ذوالفقار شاہ، جنرل سیکرٹری ملک نواز، مرکزی رہنمائوں جاوید بلوچ، پرویز حبیب، کیپٹن شبیر جدون، وارث گلنار، گل اسلام، جان محمد بلوچ نے کہاکہ 15 فیصد اضافے کی ادائیگی، فنڈز، پنشن، گریجویٹی، گروپ انشورنس، فنانشل ایڈ کی ادائیگی تک احتجاج جاری رہے گا، اس موقع پر فنانشل ایڈوائزر کے ایم سی نے میئر اور میٹرو پولیٹن کمشنر کی عدم موجودگی میں دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیے اور اعلان کیا کہ آئندہ ماہ ملازمین کو 15 ماہ کا فائر رسک الائونس، پنشن اور تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے اور چار ہزار ریٹائرڈ اور وفات یافتہ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے پیر 14 اکتوبر کو اعلیٰ سطح اجلاس چیف سیکرٹری آفس میں طلب کر لیا گیا ہے جس میں ان واجبات کی ادائیگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

