بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں کاروبار اور دفاتر نہ کھولنے مودی حکومت کیخلاف احتجاج ہے جو پہلے نہیں دیکھا گیا
کشمیر میں حالات ویسے نہیں ہیں جیسے مودی سرکار پیش کررہی ہے، ظلم کی انتہا ہوگئی ہے، بھارتی سول سوسائٹی کی رپورٹ
سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی سول سوسائٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کشمیر کے عوام نے سول نافرمانی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کشمیر میں کاروبار اور دفاتر نہ کھولنا بھارت کے خلاف احتجاج ہے جو پہلے نہیں کیا گیا۔ سول سوسائٹی کے مطابق کشمیر میں حالات ویسے نہیں ہیں جیسے مودی سرکار پیش کر رہی ہے وادی میں بھارتی فوج لوگوں کو دکانیں کھولنے پر مجبور کر رہی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت مظلوم کشمیریوں کو جب چاہے حراست میں لے کر ظلم کر رہا ہے اور کشمیریوں نے کاروبار بند کرکے پرامن جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کشمیری عوام اب بھارتیوں کے ساتھ مزید بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، بھارت کی ہٹ دھرمی نے بات چیت کے راستے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے، بھارتیوں کے رویے نے کشمیریوں کو پراسرار خاموش مظاہرین میں بدل دیا ہے۔ سول سوسائٹی کے مطابق پراسرار خاموش احتجاج اور سول نافرمانی طوفان سے پہلے کی نوید ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو اور پابندیاں بدستور جاری ہیں تاہم بھارت نے وادی میں پوسٹ پیڈ کی موبائل فون سروس جزوی طور پر بحال کردی لیکن انٹرنیٹ سروس ابھی تک بحال نہیں کی گئی۔ خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے 20 لاکھ سے زائد پری پیڈ موبائل فون کنکشنز اور انٹرنیٹ سروسز پر عائد پابندی جاری رہے گی۔ اکثر شہریوں نے صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ دو ماہ سے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ مواصلاتی رابطوں کے بغیر ہم پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں۔

