ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کے اقدامات ابتدائی طور پر تسلی بخش قرار
پاکستان کی بڑی کامیابی، 3 طاقتور ممالک نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا
پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کیلئے 12 ارکان کی حمایت درکار ہوگی‘وزارت خزانہ
پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں کا معاملہ، پاکستان کی بڑی کامیابی، 3 طاقتور ممالک نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا، پاکستان کی نئی رسک اسسمنٹ سٹڈی پر ایف اے ٹی ایف حکام کا اظہار اطمینان، چین، ترکی اور ملائیشیا نے پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو ابتدائی طور پر تسلی بخش قرار دے دیا۔پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس جاری ہے۔ جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کررہے ہیں۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ کا جائزہ لیا، ابتدائی طور پر پاکستان کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے تاہم پاکستان کی طرف سے ایکشن پلان پرعملدرآمد کے نکات پر ابھی مزید 2 دن غور کیا جائے گا۔پاکستان نے نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ اسٹڈی مکمل کرکے 150 صفحات کی رپورٹ بھجوائی تھی، جس میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے 12 سے زائد صفحات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں اور استغاثہ سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف پاکستان کے حالیہ اقدامات سے مطمئن ہوئی تو اسے ’گرے ایریا‘ کی فہرست سے خارج کرنے کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔ ناکافی پیش رفت کی وجہ سے پاکستان کے بارے اگلی سطح کے اقدامات لینے پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کے لیے 12 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔پیر کے روز پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان اہم مذاکرات میں پاکستان کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کی نئی رسک اسسمنٹ سٹڈی پر ایف اے ٹی ایف حکام نے اظہار اطمینان کیا۔ چین، ترکی اور ملائیشیا نے پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق رپورٹ میں دہشتگردی اور کرپشن کے خلاف کوششوں کو سراہا گیا۔پاکستان سے پوچھے گئے اضافی سوالوں کے جواب کا سیشن بھی ہوا۔پاکستانی وفد کے تمام ارکان نے سوالوں کے جواب دیئے۔ پاکستانی وفد نے بھارتی وفد کی جانب سے کیے گئے سوالوں کے جواب بھی دئیے۔ بھارتی وفد نے پاکستانی وفد سے دہشتگردی اور ان کے ٹھکانوں سے متعلق سوال کیا۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف رپورٹ پیش کی اور مدلل جواب دیا۔ اجلاس میں سوالوں کے جواب کا مرحلہ مزید بھی جاری رہے گا۔

