بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ فائر بریگیڈ کے ملازمین کا اپنے مطالبات کیلئے دھرنا، آگ لگنے کی صورت میں زیادہ نقصان کا اندیشہ
فائر بریگیڈ کو 16 ماہ سے اوور ٹائم نہیں ملا 6 سال سے یونیفارم نہیں دیئے گئے، دستانے ہیں نہ ہیلمٹ 20، 20 گھنٹے کام کیا ہے، ملازمین
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ فائر بریگیڈ کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں جمعرات سے شہر بھر کے فائر اسٹیشنز کو بند کر دیا۔ سینٹرل فائر اسٹیشن میں ملازمین نے دھرنا دیا اور نعرے بازی کی، ملازمین کا کہنا تھا کہ ہمارا اوورٹائم، تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات جب تک منظور نہیں کیے جاتے اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔ شہر میں تمام فائر اسٹیشنز بند رہیں گے لیکن بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اعلیٰ افسران کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات نہیں کیے گئے، ملازمین آج بھی تمام فائر اسٹیشنز کو بند رکھیں گے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ فائر بریگیڈ کے ملازمین نے شہر کے تمام فائر اسٹیشن بند کر دیے شہر میں آگ بجھانے کے امور بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں لیکن بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر، میونسپل کمشنر سمیت کسی اعلیٰ افسر نے ان ملازمین سے کوئی مذاکرات نہیں کیے، جمعرات کی صبح 9 بجے سے فائر بریگیڈ کے ملازمین نے شہر کے 24 فائر اسٹیشنز کو بند کر دیا، سینٹرل فائر اسٹیشن نزد سول اسپتال پر تمام ملازمین جمع ہو گئے اور دھرنا دیا، سینٹرل فائر اسٹیشن کے مرکزی دفتر کے ملازمین نے نعرے بازی کی ملازمین کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے مطالبات کو تمام اعلیٰ حکام تک پہنچایا لیکن ہماری کوئی شنوائی نہیں ہورہی تاہم اب ہمارے پاس ہڑتال کے سوا کوئی راستہ نہیں، شہر میں 24 فائر اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں ملازمین کا کہنا تھا کہ فائر بریگیڈ کے ملازمین کو 16 ماہ سے اوورٹائم نہیں ملا، چھ سال سے یونیفارم نہیں دیے گئے، پرانے یونیفارم کی حالت انتہائی خستہ ہے نہ ہمارے پاس دستانے ہیں نہ ہی ہیلمٹ ہے۔ فائر فائٹرز کے پاس جوتے تک نہیں ہیں، ملازمین نے بتایا کہ 20، 20 گھنٹے کام کیا ہے تمام ہنگامی صورتحال میں فائر بریگیڈ ملازمین الرٹ رہتے ہیں لیکن 16 ماہ ہو گئے ہمارا اوورٹائم نہیں دیا گیا۔

