اگر فنڈز نہیں ہیں تو تنخواہوں میں اضافے پر عمل درآمد نہ کیا جائے‘ حکومت سندھ کا کے ایم سی کو مشورہ
سیکرٹری بلدیات نے 15فیصد اضافی تنخواہ ماہانہ ادا کرنے کیلئے بھیجے گئے مراسلہ کا تاحال کوئی جواب نہیں آیا
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 15 ہزار ملازمین کو 15 فیصد اضافی تنخواہ دینے سے انکار کرکے کے ایم سی کو مشورہ دیا ہے کہ اگر فنڈز نہیں ہے تو تنخواہوں میں اضافے پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ بلدیہ کراچی کو تنخواہوں کی مد میں ماہانہ کم و بیش 12 کروڑ روپے کی کمی کا سامنا ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی بحران کے باوجود میئر وسیم اختر ، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن اور فنانشل ایڈوائزر مطلوبہ فنڈز کے حصول کے لیے حکومت سے براہ راست رابطہ کرنے سے گریز اں ہیں۔ 15ہزار ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کے بعد ماہانہ 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ میٹروپولیٹن کمشنر نے تنخواہوں میں اضافے کی مد میں 4 کروڑ 20 لاکھ روپے ماہانہ فوری ادا کرنے کے لیے سیکرٹری بلدیات کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس کا تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ کے ایم سی کے افسران نے اضافی رقوم کے اجرا کے لیے سیکرٹری بلدیات ، چیف سیکرٹری سندھ سے ملاقات کرنے کی کوشش تک نہیں کی اور نہ ہی میئر وسیم اختر نے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ میٹنگ کرکے کے ایم سی کو مالی بحران سے نکالنے کی کوشش کی۔ کے ایم سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اگر فوری طور پر 7 کروڑ روپے کی وہ رقم جو کٹوتی کرکے کے ڈی اے کو دی جارہی ہے بحال کردے تو بھی کسی حد کے ایم سی کی مالی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کو ماہانہ 12 کروڑ روپے کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فائر بریگیڈ کے ملازمین کو ماہانہ اوورٹائم کی مد میں ادائیگی کی جارہی ہے اور نہ ہی بلدیہ عظمیٰ کے ملازمین کو اضافی 15 فیصد سالانہ اضافے پر عمل درآمد کیا جاسکا، کے ایم سی کو اپنے واحد میڈیکل و ڈینٹل کالج کو 3 کروڑ روپے ماہانہ ادا کرنا بھی مشکل ہورہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 دن قبل سیکرٹری بلدیات و سیکرٹری خزانہ نے واضح کردیا تھا کہ حکومت اضافی تنخواہ کی مد میں کوئی رقم کے ایم سی کو ادا نہیں کرسکتی اگر کے ایم سی کے پاس فنڈز ہے تو وہ تنخواہوں میں اضافہ کردے۔ کے ایم سی کے غریب ملازمین کا کہنا ہے کہ منتخب بلدیاتی کونسل اور سندھ حکومت’’ نورا کشتی ‘‘ لڑتے ہوئے مالی بحران دور کرنے کے لیے غیر سنجیدہ لگتے ہیں۔

