English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

واٹر بورڈ کی نجکاری ٗ ایم ڈی اور سابق وزیر بلدیات سے منظوریاں کرانے کا انکشاف

سندھ حکومت نے اندھیرے میں رکھ کر دھوکہ دہی سے دستخط کرانے میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا
13ہزار سے زائد ملازمین کا مستقبل دائو پر لگانے والے افسران کو ادارے سے باہر نکال کر گھروں کو بھیجا جائے ٗ احتجاجی بینرز آویزاں
کراچی (وقائع نگار خصوصی)واٹر بورڈ کی نجکاری کیلئے ایم ڈی واٹر بورڈ اور سابق وزیر بلدیات کو اندھیرے میں رکھ کر منظوریاں حاصل کئے جانے کا انکشاف،سندھ حکومت کا دھوکہ دہی سے دستخط کرانے میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ،واٹر بورڈ کی آفیسرز ایسوسی ایشن سمیت سی بی اے ودیگر یونینز نے بھی بھرپور احتجاج کی تیاریاں شروع کردیں،چیئرمین آفس پر احتجاجی بینرز آویزاںکردیئے گئے،13ہزار سے زائد ملازمین کا مستقبل دائو پر لگانے میں ملوث افسران کو ادارے سے نکال کر گھر بھیجنے کا عزم، نجکاری کیخلاف عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کیلئے قانونی ماہرین کی مدد حاصل کرلی گئی۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق کھربوں روپے مالیت کے اثاثے رکھنے والے ادارے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی نجکاری مشن پر متعین افسران نے ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت سابق چیئرمین وصوبائی وزیر بلدیات کو اندھیرے میں رکھ کر منظوریاں حاصل کی ہیں،واٹر بورڈ کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کے اپنے افسران نے ایم ڈی واٹر بورڈ اور صوبائی وزیر بلدیات کے اعتماد کو بری طرح ٹھیس پہنچاتے ہوئے انہیں اندھیرے میں رکھ کر دستخط کرائے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے اعلی حکام نے مذکورہ دھوکہ دہی میں ملوث افسران کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ ایم ڈی واٹر بورڈ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ ادارے کا کوئی افسر بھی بائی ہینڈ فائل لیکر آئے تو اس پر منظوری دینے کے بجائے فائل ڈاک میں جمع کروائی جائے اور مطالعے کے بعد ہی منظوری دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں سے ورلڈ بینک سے متعلق فائلیں روٹین میں منظوری کیلئے لائی جاتی رہی ہیں اور مذکورہ فائل پر بھی ایم ڈی واٹر بورڈ نے متعلقہ افسر پر اعتماد کرتے ہوئے بغیر مطالعہ کئے دستخط کردیئے تھے دوسری طرف ایم ڈی کے دستخط دیکھ کر سابق وزیر بلدیات وچیئرمین واٹر بورڈ نے بھی دستخط کرڈالے، جس کے بعد واٹر بورڈ کی نجکاری مشن پر متعین افسران اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے تاہم بھانڈا پھوٹنے پر سندھ حکومت کے اعلی حکام نے اس حوالے سے جواب طلبی کی تو معلوم ہوا کہ تمام منظوریاں حکام کو دھوکے میں اور اندھیرے میں رکھ کر حاصل کی گئی تھیں،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ واٹر بورڈ کے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے جاری نوٹیفکیشن میں 7گورنمنٹ اور 8پرائیوٹ افسران کو شامل کئے جانے پر مذکورہ نوٹیفکیشن پر ہی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں جس میں شہر کے اہم اسٹیک ہولڈرز جس میں بلخصوص کے پی ٹی،ریلوے،ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی،ملٹری لینڈ کے نمائندوں سمیت ڈی ایم سیز کے چیئرمین تک کوشامل نہیں کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے