بھارتی حکومت کیساتھ مذاکرات کی کوششوں کے نتیجے میں ہمیں نفرت اور مظالم ملے
بھارت میں رہتے ہوئے آزادی کااعلان کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں تھا‘ مہاراجہ منی پور
لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) ریاست منی پور کے مہا راجہ لیشمبا سناجائوبا کے نمائندے نے گزشتہ روز بھارت سے علیحدگی اور منی پور اسٹیٹ کونسل قائم کرنے کااعلان کردیا، لندن میں پریس کانفرنس منی پور سٹیٹ کونسل کے وزیراعلیٰ یمبن بیرن اور امور خارجہ اور دفاع کے وزیر نارنگبم سمرجیت نے میڈیا کے سامنے اعلان کیا کہ وہ مہاراجہ منی پور لیشمبا سناجائوبا کی جانب سے منی پور سٹیٹ کونسل کے نام سے جلاوطن مملکت کے قیام کا اعلان کر رہے ہیں، جلاوطن حکومت سینٹرل لندن میں ہوگی، انھوں نے ڈاکومنٹ پیش کیا جس کے تحت مہاراجہ منی پور نے مارچ 2013 کو حکم نمبر 12 کے تحت ریاست منی پور کے سیاسی مسائل حل کرنے کا اختیار دیا ہے۔ دونوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے بھارت میں رہتے ہوئے آزادی کااعلان کرنے پر گرفتاری، ظلم و تشدد اور بھارتی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ہلاک کئے جانے سے بچنے کیلئے ستمبر 2019کو برطانیہ میں پناہ طلب کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آزادی کا اعلان اور عالمی برادری سے اس کی توثیق حاصل کرنے کا یہ مناسب وقت ہے، ہم اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ منی پور کی جلاوطن حکومت کو تسلیم کرنے کااعلان کریں ،انھوں نے کہاکہ منی پور کے 3 ملین عوام ایک باوقار قوم کی حیثیت سے اپنی پہچان چاہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کے نتیجے میں ہمیں نفرت اور مظالم ملے، بھارت میں رہتے ہوئے آزادی کااعلان کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں تھا،کیونکہ ایسی صورت میں ہمیں گرفتاریوں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کاسامنا کرنا پڑتا، انھوں نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت عدم برداشت کی حامل ہے اور ہندو توا کی بالادستی کیلئے چھوٹی قوموں اور کمیونٹیز کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کے درپے ہے، اس لئے بھارت میں رہتے ہوئے کام کرنا ان کیلئے ممکن نہیں تھا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ منی پور اسٹیٹ کونسل مہاراجہ یشمبا سناجائوبا کی حکومت ہے اور وہ رہاست کے آئینی سربراہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کی قابض حکومت بھارتی مسلح افواج کے خصوصی اختیارات کے ایکٹ 1958کے ڈراکونین قانون کے تحت ریاست کا انتظام چلارہی ہے،ریاست پر بھارتی قبضے کے بعد سے گزشتہ 10سال کے دوران کم وبیش ساڑھے 4ہزار افراد کو ہلاک کیاجاچکا ہے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد غیرقانونی طور پر جیلوں میں بند ہیں۔

