لیڈروں کی نظربندی کے متعلق عدالت میں انتظامیہ غلط بیانی کر رہی ہے
مقبوضہ جموں و کشمیر کی عدالت عالیہ کی جانب سے عوامی نیشنل کانفرنس کے لیڈر مظفر شاہ، بیگم خالدہ اور مصطفی کمال پر عائد پابندیوں کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو خارج کرنے کے پیش نظر ان سیاسی لیڈران نے اپنی رہائش گاہ سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں اسکی اجازت نہ دیتے ہوئے گھر سے باہر جانے نہیں دیا۔
منگل کو عدالت عالیہ میں انتظامیہ نے دعوی کیا تھا کہ ان تینوں رہنمائوں میں کوئی بھی قید یا نظر بند نہیں نہ ہی ان پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی عائد ہے، جس پر عدالت نے مظفر شاہ، بیگم خالدہ اور مصطفی کمال کی درخواست کو خارج کرتے ہوئی کہا کہ وہ اپنا موقف صحیح طریقے سے پیش کریں۔
مظفر شاہ، بیگم خالدہ اور مصطفی کمال کو جب اپنی رہائش گاہ سے باہر نہیں آنے دیا گیا تو بیگم خالدہ کی بیٹی عالیہ شاہ نے باہر نکل کر صحافیوں کو بتایا کہ ان کی والدہ، مظفر شاہ اور مصطفی کمال کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ، اور وہ اس وقت اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔
عالیہ نے انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں کیے گئے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدالت میں انتظامیہ نے جھوٹا بیان دیا ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے ہماری بات پر کوئی غور نہیں کیا۔ جبکہ عدالت کے اس رویے سے عدالتوں پر سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب مظفر شاہ کو رہائش گاہ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے قبل بھی گزشتہ ماہ شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کے لیے صحافیوں کو دعوت نامے بھجوائے تھے تاہم پولیس نے دفعہ 144 نافذ ہونے کا حوالہ دے کر ان کی پریس کانفرنس کو منعقد ہونے نہیں دیا۔
