English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سی پیک جاری رہا تو پاکستان کو نقصان ہوگا‘ امریکا

القمر

واشنگٹن/اسلام آباد/بیجنگ(آن لائن+صباح نیوز+اے پی پی)امریکا نے کہا ہے کہ چین نے انفرااسٹرکچر کا اپنا بڑا منصوبہ سی پیک جاری رکھا تو اس اسے پاکستان کو طویل المیعاد اقتصادی نقصان ہوگا جس میں فائدہ بہت کم ملے گا ۔جنوبی ایشیاء کے لیے امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز نے مقامی تھنک ٹینک ووڈرو ویلسن انٹرنیشنل سینٹر فار اسکالرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہپاک چین اقتصادی راہداری جسے ایشیاء کے دونوں ممالک گیم چینجر منصوبہ قرار دیتے ہیں اس سے صرف بیجنگ کو فائدہ ہو گا ۔ ان کا کہنا تھاکہ سی پیک اتھارٹی کو کرپشن سے متعلق تحیققات میں استثناحاصل ہے۔ اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ سی پیک امداد کے طور پر لیا جارہا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اوراسے واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ سی پیک کا مطلب امداد نہیں ہے، یہ ایک ایسی سرمایاکاری ہے جس میں اکثر اوقات مراعات بھی شامل نہیں ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالرز کے منصوبے میں غیر روایتی قرضے دیے جارہے ہیں جس میں چینی کمپنیاں اپنے ہی مزدور اور سامان بھیج رہی ہیں، سی پیک منصوبہ میں چین اپنے وسائل اور مزدور لاتا ہے اورٹھیکے بھی مقا می کمپنیوں کے بجائے چینی کمپنیوں کو دیے جاتے ہیںجب کہ پاکستان میں بے روز گاری بڑھ رہی ہے،پاکستان کی 64فیصد آبادی 30برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے ا نہیں روزگار چاہیے۔ان کا کہنا تھاکہ یہ راہداری پاکستانی معیشت کو بہت بڑا نقصان پہنچانے والی ہے بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب بہت زیادہ ادائیگیاں اگلے 4 تا6 برس میں شروع ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چین مختلف ممالک کو ایسے معاہدے کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو ان کے مفاد میں نہیں ہیں، پاکستان کو چین سے سی پیک منصوبہ کی شفافیت سمیت سخت سوالات کرنا ہوں گے۔ ایلس ویلز نے کہا کہ چین دیگر ممالک کو قرضے فراہم کر تا ہے لیکن اس لین دین میں شفافیت کی کمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے دیگر ممالک سے 5ٹریلین ڈالرز کے لین دین سے متعلق کہیں رپورٹ پیش نہیں کی، شفافیت کے نہ ہونے سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے اور خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک چین کی کمیونسٹ پارٹی کے منصوبہ ون بیلٹ ون روڈ کا حصہ ہے جس کا تخمینہ 60ارب ڈالرز ہے اور اس میں پاکستان سمیت 8ممالک شامل ہیں۔ امریکی نائب معاون وزیرخارجہ کے بقول یہ سمجھنا آسان ہے کہ پاکستان کی سابقہ حکومت چینی سرمایا کاری کی جانب کیوں راغب ہوئی کیونکہ اس وقت پاکستان کو بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر کی ضرورت تھی ۔ ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ امریکا نے پاکستان میں تعلیمی ادارے بنانے اور معاشی میدان میں بھی تکنیکی مدد کی ،پاکستان کو اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ امریکا نے پاکستان کو بہتر ماڈل کی پیشکش کی ہے۔ علاوہ ازیں وائٹ ہائوس کے ترجمان جوڈ ڈیری نے کہاہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں رواں سال کے دوران ریکارڈ اضافہ ہو گا۔ دوسری جانب چینی سفیر یاؤ جنگ نے سی پیک میں کرپشن کے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سی پیک پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے احتیاط کرے۔اسلام آباد میں 5ویں سی پیک میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت چین کے پاور پلانٹ کم ترین ریٹ پر بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پرعملدرآمد کرانے میں ہم ایک ہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک پاکستان حکومت کی اولین ترجیح ہے۔یاؤ جنگ نے کہا ہے کہ حقیقت پر مبنی معلومات سے منفی پراپیگنڈے کا ازالہ کرنا ہے،سی پیک کا مقصد پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے، سی پیک کا اگلا مرحلہ صنعتی تعاون کو فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایلس ویلز کے بجلی ٹیرف کے زیادہ ہونے کے بیان کو سن کر حیرت ہوئی، سی پیک کے بارے میں کرپشن کی بات کرنا آسان ہے جب آپ کے پاس درست معلومات نہ ہوں، سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے نیب سمیت تمام نے چیک کیا ہے، کوئی کرپشن سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہاکہ تمام منصوبوں میں مکمل شفافیت پائی گئی۔ ایلس ویلز نے ایم ایل ون پر بھی بات کی،ایم ایل ون ریلوے منصوبہ کی لاگت 9 ارب ڈالر ہے، یہ صرف ایک تخمینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام کو ایم ایل ون کے تخمینے پر بات نہیں کرنی چاہیے تھی، یہ ان کے دفتر کے آداب کے خلاف ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جاری 20 منصوبوں میں 75ہزار سے زائد پاکستانیوں کو روزگار فراہم کیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک مشترکہ فائدے کا منصوبہ ہے، 170 ممالک اس کا حصہ ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ میڈیا حقیقت دیکھے، اس کے فوائد دیکھے اور منفی پراپیگنڈے کو رد کرے۔علاوہ ازیں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ امریکا سے تجارتی معاہدوں کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس خواہش کو بزدلی نہ سمجھا جائے۔بیجنگ میں سابق امریکی اہلکاروں اور غیر ملکی مہمانوں کے وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے خواہ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین امریکا سے خوف زدہ ہے، جنگی صورت حال برقرار رہی تو جوابی اقدامات بھی کریں گے۔چینی صدر نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ باہمی احترام اور برابری کی بنیادوں پر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان معاشی جنگ سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، خطے میں قیام امن کے لیے اپنی ذمے داریوں کو سمجھتے ہیں اور کسی بھی تنازعے میں پڑنے کے بجائے دوطرفہ تجارتی تعلقات کی بحالی کے لیے سرگرم بھی ہیں اور پْر امید بھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے