English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بی جے پی کی حکومت بھارت کے 40 فیصد حصے تک محدود

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں انتہاپسند حکمراں جماعت بی جے پی کا سیاسی اثر رسوخ ماند پڑنا شروع ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق بی جے پی 2017ء میں بھارت کے 71فیصد حصے پر اقتدار میں تھی۔ اب اس کا اقتدار سمٹ کر 40فیصد ریاستوں ہی تک محدود ہو گیا ہے۔ بڑی ریاستوں میں اب صرف اتر پردیش پر اس کی حکومت ہے۔ جمعرات کے روز بھارت کی دوسری بڑی ریاست مہاراشٹر میں سیاسی جماعتوں شیوسینا، کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس کی اتحادی حکومت قائم ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت ملک کی ایک اور ریاست کے اقتدار سے بے دخل ہوئی تھی۔ مہاراشٹر میں اقتدار کھونا بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی اور مستقبل دونوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ ہندو قوم پرست جماعت شیو سینا بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی تھی اور مہاراشٹر میں ان کی مخلوط حکومت تھی۔ ریاست کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور شیوسینا نے ایک محاذ کے طور پر انتخاب لڑا تھا۔ مہاراشٹر کی 288رکنی اسمبلی میں شیو سینا کو 56اور بی جے پی کو 105نشستیں حاصل ہوئی، جو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے زیادہ تھیں۔ لیکن حکومت کی تشکیل سے قبل شیو سینا نے مطالبہ کر دیا کہ اس مرتبہ ریاست کا وزیر اعلیٰ ان کی جماعت سے ہو گا۔ بی جے پی کے انکار پر انتہاپسند ہندو جماعت نے اتحاد توڑ دیا۔ دوسری جانب کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ہمیشہ بی جے پی اور شیو سینا کے خلاف رہی ہیں۔ اس بار بھی دونوں جماعتوں نے شیو سینا اور بی جے پی کے خلاف الیکشن لڑا تھا، لیکن موقع کا فائدہ اٹھاکر انہوں نے شیوسینا کو قیادت کا لالچ دے کر اتحاد قائم کرنے پر قائل کرلیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے