جے پور (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست راجستھان میں غربت اور ناخواندگی کے باعث لاکھوں بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ریاستی دارالحکومت جے پور میں ڈھائی لاکھ بچے مزدوری کررہے ہیں۔ جے پور کی انتظامیہ نے رواں برس جنوری میں بچوں میں مزدوری کی بڑھتی شرح کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے کاغذات کی حد تک ایک مہم شروع کی گئی،جس کے ذریعے سرگرم کارکنان اور علاقائی کونسلر کو وکلا اور پولیس کی مدد فراہم کرنا تھی تاکہ وہ بچوں کی مزدوری یا ان کی اسمگلنگ کے مقدمات کو جلد حل کرا سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی بھارتی ریاست بہار میں ہزاروں غریب بچوں کو جے پور اسمگل کیا جاتا ہے، جہاں ان سے چوڑیوں اور کپڑوں کی فیکٹریوں میں جبری محنت لی جاتی ہے۔ ملک بھر میں محنت ومزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد 44لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ جے پور کی مختلف عدالتوں میں بچوں کی مزدوری سے متعلق 200مقدمات زیر سماعت ہیں، لیکن 10برس میں کسی ایک کیس کا بھی فیصلہ نہیں سنایا گیا اور نہ مبینہ ملزم کو سزا سنائی گئی۔ ریاست بہار میں امدادی ادارے ’ڈائریکٹ‘ کے سربراہ سریش کمار کا کہنا ہے کہ بچوں کو اسمگل کرنے والے افراد کو گرفتار کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ بچے اور ان کے خاندان کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ بچوں سے مزدوری کرانا جرم ہے۔ اکثر والدین کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بیٹے کو مارا پیٹا جاتا ہے اور بھوکا رکھ کر 12 گھنٹے کام کرایا جاتا ہے۔
