English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایغور بحران پر عالم اسلام کی خاموشی ، جرمن فٹ بالر پھٹ پڑے

القمر

 

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) تُرک نژاد جرمن فٹ بالر مسعود اوزل نے چین میں ایغور مسلمانوں کے لیے آواز نہ اٹھانے پر مسلمان ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق جرمن قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کھلاڑی مسعود اوزل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر چین میں ایغور مسلمان اقلیت پر ہونے والے ظلم وستم پر خاموشی اختیار کرنے پر مسلم ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یاد رہے کہ چینی صوبے سنکیانگ میں 10 لاکھ مسلمان باشندوں کو جبری طور پر ان کیمپوں میں منتقل رکھا گیا ہے۔ انگلش پریمئر لیگ کی ٹیم آرسنل کی نمایندگی کرنے والے 31 سالہ اوزل نے کہا کہ وہ ایغور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم نذر آتش کیا گیا۔ مسجدوں کو بند کر دیا گیا۔ مدرسوں پر پابندی لگا دی گئی۔ مذہبی رہنماؤں کو قتل کیا گیا۔ مسلمان بھائیوں کو زبردستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ اپنے ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر اوزل نے تُرک زبان میں مزید لکھا کہ مسلمان خاموش ہیں۔ ان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس پیغام کے بیک گراؤنڈ میں ہلکے نیلے رنگ میں سفید ہلال نمایاں تھا۔ ایغور حریت پسند اسے مستقبل کے آزاد ملک مشرقی ترکستان کا پرچم قرار دیتے ہیں۔ انگلش فٹ بال ٹیم آرسنل نے خود کو اوزل کے اس بیان سے الگ کر لیا ہے۔ اس کلب کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اوزل کا یہ بیان ذاتی نوعیت کا ہے۔ مزید کہا گیا کہ بطور ایک فٹ بال کلب آرسنل کسی قسم کی سیاسی بیان بازی کا حصہ نہیں بنتا۔ چین میں ایغور مسلمانوں کی مبینہ ذہن سازی کے لیے قائم کیے گئے کئی کیمپوں پر عالمی برداری کی طرف سے تنقید کی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں ایغور مسلمانوں کو مقامی اکثریتی ہان ثقافت کی طرف مائل کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے