English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

میرپور خاص : آٹے کا بحران جاری ، شہری مہنگے داموں خریدنے پر مجبور

القمر

 

میرپور خاص (نمائندہ جسارت) صوبائی وزیر خوراک کے آبائی حلقے میں آٹے کا بحران برقرار ہے، صوبائی وزیر خوراک کے 43 روپے کلو آٹے کے اعلانات کے باوجود آٹا 60 روپے فی کلو سے زائد نرخوں میں فروخت ہورہا ہے، غریب عوام کی چیخیں نکل گئیں۔ دوسری جانب شہر کی فلور ملوں کے ساتھ بھی ناانصافی، گندم کا کوٹہ لاڑکانہ سے اٹھائیں گے جبکہ دیگر اضلاع کو دگنا کوٹہ فراہم کیا جارہا ہے۔ صوبائی وزیر خوراک ہری رام کشوری لعل کے حلقہ انتخاب میں ایک مرتبہ پھر آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے، شہر کی آٹا چکیوں پر 60 روپے فی کلو سے زائد نرخوں پر آٹا فروخت کیا جارہا ہے جبکہ بعض چکی مالکان نے نمائشی طور پر بینر آویزاں کر کے 45 روپے کلو میں انتہائی ناقص آٹا فروخت کررہے ہیں۔ دوسری جانب فلور مل ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک حکومت سندھ کی جانب سے فلور ملوں کو سات ہزار گندم کی بوری ماہانہ فراہم کی جارہی ہے جوکہ انہیں لاڑکانہ کے گوداموں سے خود وصول کرنی پڑ رہی ہے جبکہ ٹنڈوالہٰیار سمیت سندھ کے دیگر اضلاع کو دگنا کوٹہ یعنی 14 ہزار گندم کی بوریاں پاسکو کے گوداموں سے فراہم کی جارہی ہیں، جوکہ سراسر زیادتی اور ناانصافی کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ صوبائی وزیر خوراک ہری رام کشوری لعل نے میرپور خاص میں آٹے کی فی کلو قیمت 43 روپے مقرر کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ آئندہ شہریوں کو اسی نرخوں میں آٹا فراہم کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود چکی مالکان اور آٹے کے تاجروں کی من مانیاں عروج پر ہیں اور انہوں نے صوبائی وزیر خوراک کے اعلان کو نظر انداز کرتے ہوئے آٹے کے نرخ 60 روپے فی کلو مقرر کر رکھے ہیں، جس کی وجہ سے غریب عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ شہریوں نے حکومت سندھ کی ناانصافی اور آٹے کی مہنگے داموں فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کے نرخوں میں کمی اور زائد منافع اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے