پاکستان کا ایسا صوبہ جہاں کتے کے کاٹنے کی ویکسین کیلئے بجٹ نہیں ہے وہاں ارکان اسمبلی کیلئے اربوں خرچ کئے جارہے ہیں
سندھ کے 168 اراکین اسمبلی کیلئے 10 اور 14 منزلہ دو عالیشان ٹاور کی تعمیر تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے
ہوسٹل کی تعمیر کیلئے 2014 میں ایک ارب 70 کروڑ کے بجٹ کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو 2017 میں ساڑھے پندرہ ارب روپے ہوگیا
سندھ حکومت کراچی میں عوام کے پیسوں سے مہنگے ترین محل کی تیاری کررہی ہے، میڈیا نے تمام تفصیلات جاری کردیں
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) آگرہ کے تاج محل کا نام تو آپ نے سنا ہوگا۔ لیکن آج سندھ کا تاج محل ہے کیا؟ کون بنوا رہا ہے، کہاں بن رہا ہے، کس کے لیے بنوایا جارہا ہے؟ ایک ایسا صوبہ جہاں کتے کے کاٹنے کی ویکسین کا بجٹ نہیں ہے، مائوں کے پاس لاشیں لے جانے کے لیے ایمبولینس نہیں ہے۔ بھٹو کے شہر لاڑکانہ میں ایڈز کا مرض لاعلاج مرض بن چکا ہے، جانیں نگل رہا ہے۔ مگر سندھ حکومت کا رونا ہے کہ مریضوں کی اسکیننگ کے لیے رقم نہیں ہے۔ کراچی ملک کا معاشی حب تباہ حال ہے، سندھ حکومت کہہ رہی ہے کہ بجٹ ملتا نہیں ہے۔ مگر اسی شہر میں سندھ اسمبلی کے 168 اراکین کے لیے اربوں روپے کا عالیشان رہائشی ہاسٹل تعمیر کیا جارہا ہے۔ 10 اور 14 منزلہ دو ٹاورز پر مشتمل ایم پی اے ہاسٹل میں 200 افراد کے لیے رومز اور وی آئی پی سوئٹس ہوں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 2014ء میں جب پروجیکٹ شروع ہوا تو ابتدائی طور پر لاگت کا تخمینہ تقریباً ایک ارب 70 کروڑ روپے تھا، پھر 2017ء میں اچانک اس کی قیمت میں ایک بہت بڑا جمپ کرکے ساڑھے 5 ارب روپے تک پہنچا دی گئی۔ اصل تاج محل تو بھارت کے شہر آگرہ میں قائم ہے، سندھ حکومت نے کراچی میں عوام کے پیسوں سے مہنگے ترین محل کی تیاری کر رہی ہے جس پر سندھ اسمبلی کی نئی عمارت سے بھی زیادہ لاگت آرہی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ارکان سندھ اسمبلی کی رہائش کے لیے بننے والے شاہانہ ہاسٹل کا خرچہ ساڑھے 7 ارب تک پہنچ گیا ہے جوکہ ایم پی اے ہاسٹل کی نئی اسمبلی بلڈنگ سے بھی ڈھائی ارب روپے مہنگا ہے۔ ہر ایم پی اے ساڑھے 4 کروڑ کے فلیٹ میں رہے گا، بہترین کوالٹی کے گھر کی تعمیر 2سے 3 ہزار روپے فی اسکوائر فٹ ہے جبکہ سندھ کا نیا ایم پی اے ہاسٹل ساڑھے 9 ہزار روپے فی اسکوائر فٹ میں بن رہا ہے۔

