کراچی میں چار روز سے سی این جی کی بندش کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کا بڑا بحران پیدا ہوگیا تھا
سی این جی کیلئے رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے سخت سردی میں رات اسٹیشنوں پر گزاری
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں چار روز کی بندش کے بعد آج صبح سی این جی اسٹیشنز کھل گئے، گاڑیوں کا زبردست رش، کئی کلومیٹر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ کراچی میں سی این جی گزشتہ 4 روز سے بند تھی جس کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کا بحران پیدا ہوگیا تھا۔ شہری بسوں کی کمی کے باعث چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور نظر آئے۔ ٹرانسپورٹ کی کمی کا ڈرائیور حضرات نے بھی فائدہ اٹھایا اور من مانے کرائے وصول کرتے رہے، مختلف بس اسٹاپ پر شہریوں کا رش دیکھنے میں آیا، ملازمین کو دفتر اور طلبہ کو گھر پہنچنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، متعدد مقامات پر رکشہ ڈرائیوروں سے کرائے پر تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی، شہر کے مختلف علاقوں میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور حضرات سی این جی ملنے کی امید میں رات سے سی این جی اسٹیشنز کے باہر قطاریں لگا کر کھڑے ہیں اور سردی میں رات بھی اپنی گاڑیوں میں گزاری ہے۔ ایک ڈرائیور نے الزام لگایا کہ کچھ سی این جی اسٹیشنز بلیک پر پابندی کے باوجود سی این جی کی فروخت کرتے ہیں۔ سی این جی اسٹیشنز کی مسلسل 4 روز بندش کے باعث شہر میں بسوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی اور عوام کوشدید مشکلات کا سامنا رہا۔ شہر قائد کے عوام بسوں کی چھتوں پر سفر کرتے نظر آئے۔

