English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈہرکی میں پہلی انٹرسائنسی نمائش کا میلہ،50اسکولوں کی شرکت

القمر

گھوٹکی (پ ر )گھوٹکی کے شہر ڈہرکی میں پہلی انٹر سائنسی نمائش کا میلہ سجا، پچاس سے زائد اسکولوں کے طلبا و طالبات نے اپنی مہارت کے جوہر دکھائے، حاضرین ننھے ذہنوں کی تخلیقی صلاحتیوں پر حیران رہ گئے،ہاتھ سے بنے چھوٹے ٹینک سے میزائل داغنا،آلودہ پانی کو پھر سے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟ نظام سمشی کیسے چلتا ہے؟ ہریالی اور سرسبز ماحول کتنا اہم ہے، یہ سب بتایا گیا ڈہرکی میں سجے سائنسی میلے میں جہاں سرکاری اور غیر سرکاری 65 اسکولوں کے طلبا و طالبات نے اپنی صلاحتیوں کے جوہر دکھائے۔ یہ سائنسی نمائش ٹیکنیکل ٹریننگ کالج ڈہرکی میں یوریا کھاد بنانے والے ایک ادارے اینگرو کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔نمائش کا مقصد طلبا و طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا انہیں کچھ کرنے کے مواقع فراہم کرنا اور مقابلے کے رجحان کو بڑھانا ہے۔ اس دوران کالج کے آڈیٹوریم ہال میں سپارکو کی ٹیم کی جانب سے سیٹلائٹ پر مبنی معلوماتی فلم بھی دکھائی گئی۔ بعد ازاں ججز کے فیصلوں کے مطابق بہترین سائنسی ماڈل تیار کرنے والے شاہین پبلک اسکول میرپورماتھیلو کے طلبہ کو جدید میزائل ٹینک بنانے پر پہلی پوزیشن دی گئی اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے 30 ہزار روپے نقد انعام اور ٹرافی دی گئی جبکہ دوسرا انعام دی سٹیژن پبلک ماڈل ہائر سکینڈری اسکول اوباڑو نے حاصل کی جس نے ٹریفک جام اور حادثات سے بچنے کے لیے الیکٹرک ایمبولنس کا ماڈل تیار کیا جنہیں بیس ہزار روپے نقد انعام اور ٹرافی دی گئی جبکہ تیسرا انعام آکسفورڈ پبلک سیکنڈری اسکول اوباڑو کو دیا گیا جس نے ماضی حال اور مستقبل کے اثرات کے متعلق انسان دوست ماحولیاتی ماڈل تیار کیا جسے 10 ہزار روپے نقد انعام اور ٹرافی دی گئی ۔اس موقع پر تقریب کے معزز مہمان ایس ایس پی گھوٹکی فرخ علی لنجار کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھا اقدام ہے اسکول کالج کے طلبا کی صلاحتیں سامنے آئی ہیں اور انہیں کھل کر صلاحتیوں کے اظہار کا موقع ملا ہے ہمیں امید ہے اینگرو مزید تکنیکی اور معاشی معاونت جاری رکھیں گے۔ اس دوران ایس ایس پی نے تعلمی رجحان کے بڑھانے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسی پسماندہ علاقے میں ایسے مواقع پیدا کرنا کسی نعمت سے کم نہیں ہیں جبکہ اینگرو کے وائس پریڈنٹ شہزاد نبی کا کہنا تھا کہ دیکھا گیا ہے کہ اس پسماندہ علاقے میں بھی طلبہ میں ٹیلنٹ موجود ہے ہمارا مقصد بھی یہی تھا کہ یہاں کے پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی صلاحتیوں کو نمایاں طور پر اجاگر کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں اور ان ہونہار نوجوان طلبہ میں احساس محرومی پیدا نہ ہو اور تعلیمی میدان میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوسکے۔ پروگرام کے آرگنائز عامراسلم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 30 سے 35 اسکولوں کے طلبہ کو نمائش میں حصہ لینے کا کہنا تھا مگر یہاں اسکولوں اور طلبا و طالبات کے شوق اور ولولے کو دیکھتے ہوئے کسی کو مایوس نہیں کیا اور 65 اسکولوں کی جانب سے رجسٹریشن کرائی گئی تو سب کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو طلبا اور اساتذاہ نے سراہا ہے اور مقابلے کا رجحان شوق ولولوہ پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ سال طلبا اس سے بھی زیادہ جدت اور شوق کے ساتھ حصہ لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے