نیب آرڈیننس میں ترمیم مشکل فیصلہ تھالیکن اپوزیشن نے آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا‘ عمران خان
نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیوروکریسی کا کردار محدود ہوکر رہ گیا تھا‘سول سرونٹس سے خطاب
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں پیسا اس وقت آئے گا جب صنعتیں چلیں گی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیوروکریسی کا کردار محدود ہوکر رہ گیا تھا۔سول سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم مشکل فیصلہ تھالیکن اپوزیشن نے آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا۔عمران خان نے کہا کہ بیوروکریسی کو ضابطے کی غلطیوں پر نیب کے شکنجے سے بچانا مقصود تھا۔انہوں نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر واویلا مچایا گیا جبکہ جمہوریت میں سیاسی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے چلنا ہوتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ2008 کے بعد ملک پر 24 ہزار ارب روپے کے قرضے چڑھے جبکہ ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے اور ملک میں پیسا اس وقت آئے گا جب صنعتیں چلیں گی۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان 2018 تک 30 ٹریلین قرضوں کے بوجھ تلے دبا تھا۔انہوں نے کہا کہ کاروباری معاملات میں نیب کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور گورننس سسٹم ٹھیک ہونا چاہیے فیصلے تیز ہونے چاہیئں۔

