روس پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں ہے
نیویارک،16جنوری
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس امن آپریشنز اور سیاسی امور کے محکموں نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دی۔بریفنگ کے بعد کونسل کے ممبران کے درمیان صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا جس میں کونسل کے تمام 15 ممبران نے مباحثے میں حصہ لیا۔
افریقی ملک ‘مالی’ کے ایک مسئلہ پر بند کمرہ میں ایک اجلاس بلایا گیا تھا اور اس دوران چین نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا۔
ساوتھ ایشین وائر کے نمائندے نعیم صدیقی کے مطابق اجلاس میں زیادہ تر ممبران نے پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ کے حل کے لئے دوطرفہ حل پر زور دیا ۔
دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بدھ کے روز چین کی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کی یہ تیسری کوشش تھی۔چین نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر بھی میٹنگ طلب کی جانی چاہیے۔سلامتی کونسل کے کشمیر سے متعلق اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب زینگ جن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیرکی صورتحال پر سلامتی کونسل کی میٹنگ ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی مندوب کا کہنا تھا کہ کشمیر ہمیشہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے،چین کا کشمیر کے معاملے پر موقف بالکل واضح ہے ۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقبل مندوب دمتری پولیانسکی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان کہا کہ سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں کشمیر کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔روسی مندوب کا کہنا تھا کہ روس پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق دمتری پولیانسکی کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیہ کی بنیاد پر دو طرفہ کوششوں کے ذریعے دونوں ملکوں کیاختلافات دور ہوجائیں گے۔
اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے سید اکبرالدین نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کے مختلف نمائندوں کی طرف سے بار بار لگائے گئے الزامات میں سے کسی کو قابل اعتماد قرار نہیں دیا گیا۔
پچھلے مہینے فرانس ، امریکہ ، برطانیہ اور روس نے اقوام متحدہ کے کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں چین کی طرف سے کشمیر پر تبادلہ خیال کرنے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔
گذشتہ برس 16 اگست کو بھی کشمیر کی صورتحال پر غور کے لیے سلامتی کونسل کی میٹنگ ہوئی تھی ۔ اس کے بعد گذشتہ سال دسمبر میں فرانس نے کشمیر سے متعلق اجلاس بلانے کے اقدام کو ویٹو کردیا تھا۔
نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست کو کشمیر کے خصوصی آرٹیکل 370 کو منسوخ کرتے ہوئے اسے یونین ٹیریٹیری میں تبدیل کردیا تھا جس کے بعد یہاں امتناعی احکامات نافذ ہیں۔اقوام متحدہ کے اجلاس میں کسی خاطرخواہ اقدام کی توقع نہیں ہے تاہم سلامتی کونسل میں دوسرے ایجنڈوں کی طرح مسئلہ کشمیر پر بھی غور و خوض کیا جائے گا۔
ویٹو اختیار کے حامل فرانس نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کا آپسی مسئلہ ہے جبکہ دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعہ اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے۔چین کی جانب سے دو بار مسئلہ اٹھانے کے باوجود مسئلہ کشمیر پر فرانس کے موقف میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔قبل ازیں فرانسیسی سفارتی ذرائع نے بتایاتھا کہ فرانس نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر طاقتور ادارہ میں اٹھانے کے لئے سلامتی کونسل کے کے رکن چین کی درخواست کو سنجیدگی سے لیا ہے اور وہ اس طرح اس کی مخالفت کرے گا جیسے اس نے پچھلے موقع پر کیا تھا۔فرانسیسی حکومت نے کہا تھا کہ فرانس کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
قبل ازیں نئے سال کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی تھی جس میں مسئلہ کشمیر پر بھی غور و خوض کیا گیا تھا۔فرانس کے صدارتی محل سے جاری ایک بیان مسئلہ کشمیر پر بھارت کے موقف کی تائید کا اعادہ کیا گیا تھا۔
بھارتی حکومت یوروپی یونین کے رکن ممالک کے مندوبین پر مشتمل وفد کو کشمیر کا دورہ کرانے کیلیے کوشاں ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ فرانس بھی اس وفد کا حصہ بن جائے گا۔
بھارتی وزارت خارجہ نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں و سیاسی قائدین تک آزادانہ رسائی سے انکار کے بعد یوروپی یونین کے وفد نے کشمیر کا دورہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یوروپی یونین کا وفد سری نگر کا دورہ کرنا چاہتا ہے جس کیلیے تاریخ کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ایسٹونیا کے وزیر خارجہ ارماس رینسالو نے بدھ کو نئی دہلی میں بتایا کہ کشمیر مسئلہ، بھارت اور پاکستان کا باہمی معاملہ ہے۔ یوروپی ملک ایسٹونیا فی الحال اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل غیرمستقل ارکان میں شامل ہیں۔
جموں و کشمیر کی ہندوستان کی تنظیم نو پر چین تنقید کا نشانہ رہا ہے۔
