کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی میں قانون سازوں کی جانب سے ’’میری۔یور۔ریپسٹ‘‘ یعنی (ریپ کیا تو شادی کرنا ہوگی) بل متعارف کروائے جانے کا امکان ہے۔ جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون سازی ملک میں چائلڈ میرج اور ریپ کو ازروئے قانون جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک پارلیمنٹ میں ایک بِل متعارف ہونے والا ہے جس کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکی سے جنسی زیادتی کے ملزم کو سزا سے بچنے کے لیے مذکورہ لڑکی سے شادی کرنے کی اجازت مل جائے گی، ترک قانون سازوں کی جانب سے مذکورہ بِل جنوری کے آخر میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس بِل نے ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- مسکان-رویتا کو پھانسی دینے کے لیے جلاد بننا چاہتی ہے ’آل انڈیا ہندو مہاسبھا‘ کی میرا راٹھوڑ، انتظامیہ کو لکھا خط
- رکن اسمبلی اننت سنگھ کو جنتا دل یو نے پارٹی سے کیا بے دخل، 6 سال کے لیے دکھایا باہر کا راستہ
- ’ووٹ چور‘ گیانو چھوٹے پیادوں کو نمٹا کر خود کو بچانے میں مصروف ہے: کانگریس
- ٹائیگر شراف پر حملہ سے بالی ووڈ میں خوف کا ماحول، اے آئی سی ڈبلیو اے نے وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھا خط
- الیکشن کمیشن منصوبہ بند سازش کا ٹھیکرا سافٹ ویئر پر پھوڑنے کی کوشش کر رہا، یہ قابل قبول نہیں: کانگریس
