عدنان صدیقی کو فیملی کیساتھ دوبئی کے شاپنگ مال میں بھارتی لڑکے اور لڑکیوں نے گھیر لیا
عدنان کو بڑھتے ہوئے ہجوم سے بچانے کیلئے مال کی سیکورٹی کو طلب کرنا پڑا‘عینی شاہدین
دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹی وی اداکار عدنان صدیقی کاکہناتھا کہ جھانوی کے سبب مجھے لینے پر غور کیا گیا اور یہ بات اس وقت معلوم ہوئی جب شوٹنگ کے لیے بھارت گیا۔ بات یہ تھی کہ جن دنوں بونی کپور میرے کردار کے لیے ایکٹرز کی تلاش کر رہے تھے تو جھانوی نے ڈیڈی کو مجھے لینے کا مشورہ دیا۔ دراصل وہ میری فلم آ مائٹی ہارٹ‘ دیکھ چکی تھی اور میری پرفارمنس سے بے حد متاثر ہوئی تھی۔ سو بیٹی کے کہنے پر بونی جی نے مجھے کال کی اور پھر آڈیشن کے بعد میری کاسٹنگ ہو گئی۔ جب شوٹنگ شروع ہوئی تو جھانوی ہم میں یعنی سجل اور میرے ساتھ بہت گھل مل گئی۔ اکثر وہ ہمیں لنچ اور ڈنر کرواتی جس سے ہمارے لیے اس کی پسندیدگی ظاہر ہوتی تھی۔بھارتی چینل پر پاکستانی ٹی وی ڈراموں کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ سے پاکستانی ٹی وی کے فنکاروں کو بھارت میں ایک نئی شناخت ملنے لگی تھی۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ تجربہ سے چند ماہ قبل ٹی وی اداکار عدنان صدیقی کو اپنی فیملی کے ساتھ دوبئی کے شاپنگ مال میں گزرنا پڑا۔وہاں بھارتی لڑکے اور لڑکیوں نے ان کو گھیر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ ہماری فلموں میں کام کیوں نہیں کرتے؟ آپ کے ڈرامے ’’مات‘‘ اور ’’میرے قاتل میرے دلدار‘‘دیکھ کر احساس ہوا ہے کہ ہماری فلموں کے مقابلے میں آپ کے ٹی وی ڈرامے زندگی سے زیادہ قریب تر ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق عدنان کو بڑھتے ہوئے ہجوم سے بچانے کے لئے مال کی سیکورٹی کو طلب کرنا پڑا تھا۔ ان کو مال والوں نے سکیورٹی کے ساتھ پروٹوکول بھی فراہم کیا۔عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’ میں خود حیران تھا کہ انہوں نے مجھے کیسے پہچان لیا تھا‘‘؟ انہیں بھارتی فلموں میں کام کرنیکی آفرز مل چکی تھی۔ وہ ایک بڑے ادارے کی فلم کی آفر ٹھکرا چکے تھے۔ پاکستانی ڈراموں کی بھارتی چینل پر نشر ہونے سے کئی بھارتی فلمساز رابطہ کر چکے تھے۔ ہدایتکار شانو شرما اپنی فلم میں ولن کا کردار دینا چاہتے تھے۔ ٹی وی سیریلز میں منفی کرداروں کو دیکھ کر وہ خاصے متاثر ہوئے تھے۔ وہ اور عرفان خان ہالی ووڈ کی فلم میں ہالی وڈ کوئن انجلینا جولی کے ساتھ کئی برس قبل کام کر چکے ہیں۔عدنان صدیقی نے ملکی ڈرامہ انڈسٹری کی کامیاب ترین ڈرامہ سیریل ’’ میرے پاس تم ہو‘‘ میں منفی کردار میں حقیقت نگاری کے رنگ بھر کر کمال کر دیا ہے۔ شہوار کے کردار میں اپنی عمدہ پرفارمنس سے رنگ جمایا ہے۔ اس کے چرچے چار سو ہیں۔بقول ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر شہوار کا کردار عدنان صدیقی کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ہیرو ہی نہیں ہر قسم کے کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

