English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ کابینہ کا اجلاس آئی جی کلیم امام کو تبدیل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار

وزیراعظم کو پیشکش کی کہ وہ آئی جی سندھ پولیس کے معاملے پر وفاقی کابینہ کو بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں،مراد علی شاہ
آئی جی سندھ کی تقرری پر گورنر عمران اسماعیل سے مشاورت کی بھرپور مخالفت ، وفاق سے نئے آئی جی کی تعیناتی کی درخواست
کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ کی تقرری پر گورنر عمران اسماعیل سے مشاورت کی مخالفت کرتے ہوئے وفاق سے نئے آئی جی کی تعیناتی کی درخواست کردی ہے، جبکہ وزیر اطلاعات ناصر شاہ نے کلیم امام کو عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ سندھ کابینہ کے اجلاس میں مراد علی شاہ نے اراکین کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو یہ پیشکش کی کہ وہ آئی جی سندھ پولیس کے معاملے پر وفاقی کابینہ کو بریفنگ دینے کیلئے تیار ہیں، لیکن گورنر سندھ عمران اسماعیل سے مشاورت مناسب نہیں، وزیراعظم نے مجھے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو آئی جی کی تبدیلی پر تحفظات ہیں اس لیئے وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کو بتایا کہ آئی جی سندھ کا معاملہ متنازعہ ہو گیا ہے اس لیے گورنر سندھ کو بیچ میں لانا مناسب نہیں ہوگا۔ کابینہ اراکین نے کہا کہ آئی جی سندھ کیلئے وفاقی حکومت کو 5نام دیئے جا چکے ہیں اس لئے وفاقی حکومت وزیراعظم عمران خان کے واعدے کے مطابق کلیم امام کی جگہ نیا آئی جی سندھ پولیس تعینات کرے۔جبکہ اجلاس کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کلیم امام کو مشورہ دوں گا کہ تکرار میں شامل نہ ہوں اور عہدہ چھوڑ کرچلے جائیں، آئی جی سندھ پولیس کو تکرار کرنے کے مشورے دینے والے ان کے دوست نہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ پولیس اہلکاروں کے حوصلے پست ہوں کیونکہ پولیس نے کراچی سمیت سندھ بھر میں امن امان کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان آئی جی کی تقرری کے حوالے سے صحیح فیصلہ کریں گے، حکومت سندھ نے نئے آئی جی سندھ کے لئے 5نام دیئے ہیں ، پہلے 3اور بعد میں 2نام تجویز کیئے ہیں ، ان میں آئی جی کے پی کے ثناء اللہ عباسی کا نام بھی تجویز کیا ہے، اگر وہ نام بھی تکراری ہے تو ان کو آئی جی کے پی کے کیوں لگایا گیا، انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کے معاملے میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ پنجاب اور کے پی کے نہیں بلکہ صوبہ سندھ ہے، یہ رویہ صرف پیپلز پارٹی سے رکھا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے