English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

۔22 لاکھ لوگ بیروزگار ہوگئے،مہنگائی سے میں بھی پریشان ہوں ،مملکت صدر

القمر

اسلام آباد( آن لائن ) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی سے میں بھی اتنا ہی پریشان ہوں جتنا عام آدمی ہے‘ 2 سا ل میں 22لاکھ لوگوں کا بے روزگار ہونا تشویشناک ہے ۔ آٹا بحران پر گورننس کا مسئلہ رہا ہے‘ ذمہ داروں کی چھٹی ہونی چاہیے ۔ پارلیمنٹ قانون سازی میں کردار ادا کرے ورنہ ایوان صدر آرڈیننس فیکٹری بنا رہے گا‘ میڈیا مایوسی پھیلانے کی بجائے مثبت کردار ادا کرے ۔ پیر کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حالات کی درست عکاسی کرنا میڈیا کا فرض ہے ‘ آٹا بحران کے حوالے سے میرے بیان کی غلط تشریح کی گئی‘ جعلی خبروں کے حوالے سے ایک مضمون بھی لکھ چکا ہوں‘ میڈیا سنسنی پھیلانے کے بجائے معاشرے کے مثبت پہلوئوں کو بھی اجاگر کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مجموعی طور پر اس وقت مہنگائی ہے اور مہنگائی سے میں بھی اتنا ہی پریشان ہوں جتنا عام آدمی ہے ۔ عارف علوی نے کہا کہ بجلی اور دیگر چیزوں سے سبسڈی ختم کرنا بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنا ہے۔ صدر نے کہا کہ آٹا بے وقت برآمد کرنا میرے لیے بھی پریشان کن ہے۔ اگر وافر مقدار میں موجود نہیں تھا تو آٹا باہر نہیں بھیجنا چاہیے تھا تاکہ بعد میں درآمد نہ کرنا پڑے‘ برآمدات میں دو فیصد تک اضافہ ہوچکاہے جبکہ آئی ٹی سیکٹر میں برآمدات بڑھنے کا زیادہ امکان ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت اتحادیوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرے اگر حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہوتی تو کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باعث آرڈیننس جاری کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بھی قانون سازی میں کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ ایوان صدر آرڈیننس فیکٹری بنا رہے گا۔ پارلیمنٹ کے ہر سیشن پر عوام کا بہت پیشہ خرچ ہوتا ہے۔ اسمبلی میں موجود سب جماعتوں کے ساتھ تعلقات بڑھنا چاہیے۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ حکومت مشکل وقت سے نکل جائے گی ۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ نواز شریف واپسی کا وعدہ کرکے علاج کے لئے بیرون ملک گئے انہیں ضرور واپس آنا چاہیے ۔ جبکہ نواز شریف کا علاج مریم نواز کے باہر جانے کے بغیر بھی ممکن ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے اور دنیا کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ افسوس ہے کہ دنیا میں خارجہ پالیسی انصاف پر مبنی نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے