نہ ایم کیویم ، پیپلز پارٹی اور اے این پی نے آج تک کراچی کو اپنا نہیں سمجھا،ہر ایک نیشہر کو بری طرح لوٹا‘چیئرمین بزنس مین گروپ
عہدے سے استعفادینے کے حق میں نہیں‘ کراچی کی تباہی میں تاجروصنعتکار برادری بھی ذمے دار ہے‘میئر کراچی کا اجلاس سے خطاب
کراچی ( اسٹاف ر پورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے سندھ حکومت کی جانب سے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013میں متعین کردہ قوانین وضوابط پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظام کو مستحکم کرنے کے لیے وہ ایس ایل جی اے 2013 میں ترامیم تیارکر رہے ہیںاور وہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل140اے پر عمل درآمد کے لیے حقیقتاً سخت جدوجہد کررہے ہیں اور معززعدالت عظمیٰ میں بھی اس پر عمل درآمد کے مطالبے کی حمایت کررہے ہیں۔ منگل کوکراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ4 برس سے جاری کوششوں کی بدولت اب احساس ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ،چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک مخصوص کیس کی کارروائی شروع کرنے سے قبل اے جی سندھ سے کہاکہ وہ آرٹیکل 140اے کو پڑھیں جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انتظامی اختیارات،سیاسی اختیارات اور مالیاتی اختیارات حکومت کو تیسرے درجے کو منتقل کردئیے جائیں گے،اسی طرح سندھ حکو مت کو بھی کچھ ادراک ہوا کیونکہ حال ہی میں میڈیا میں آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت میئر اور کے ایم سی کو بااختیار بنانا چاہتی ہے۔ اجلاس میں چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی، جنرل سیکرٹری بی ایم جی اے کیو خلیل، کے سی سی آئی کے صدر آغا شہاب احمد خان،سینئر نائب صدر ارشد اسلام، نائب صدر شاہد اسماعیل، چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے اسمال ٹریڈر مجید میمن و دیگر بھی شریک تھے۔وسیم اختر نے کہاکہ متنازع ایس ایل جی اے 2013کے تحت کے ایم سی کے ماتحت محکموں کو کم کر دیا گیا جبکہ کئی اختیارات اور ضروری امور جو کہ ایس ایل جی اے 2013کے تحت میئر کراچی کے آفس کو حاصل ہیں لیکن حقیقت میں وہ سندھ حکومت کے پاس ہی ہیں جو کراچی کے عوام کو درپیش مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کہاکہ آمدنی پیدا کرنے والے تمام محکمے سندھ حکومت کے زیر انتظام ہیں جبکہ کے ایم سی کے ماتحت صرف وہ محکمے بشمول اسپتال، پارکس ،فائر بریگیڈ ودیگر ہیں جن سے کوئی کمائی نہیں ہوتی تاہم انہیں چلانے کے لیے خطیر فنڈز درکار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود کے ایم سی اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے، اگرچہ کے ایم سی کے زیر انتظام اسپتال اور پارکس مثالی نہیں اور لوگوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے لیکن ہم فنڈز کی شدید قلت کے باوجود صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے سراج قاسم تیلی کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ عہدے سے استعفادینے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ایسا کرنا بے نتیجہ ثابت ہوگا اور وفاق وسندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے ساتھ کی جانے والی غلطیوں کو بے نقاب کرنے میں کبھی مدد نہیں ملے گی۔ انہوںنے کہاکہ سندھ حکومت اربوں روپے ٹیکسوں کی مدد میں جمع کرتی ہے جبکہ کے ایم سی کو صرف چارجڈ پارکنگ اور پارکوں میں داخلہ فیس ملتی ہے جن سے پورے شہر کے امور چلانا ناممکن ہے۔انہوںنے کہاکہ کراچی کی تباہی کا ذمے دار صرف کے ایم سی کو نہیں ٹہرایا جاسکتا ہے بلکہ دوسروں کے ساتھ ساتھ تاجروصنعتکار برادری بھی اس کی ذمے دار ہے کیونکہ وہ بھی صرف اپنے کاروباری معاملات سے متعلق مسائل کو حل کرانے میں مصروف نظر آتے ہیںاور کراچی کے مسائل کے لیے آواز نہیں اٹھا رہے۔سراج قاسم تیلی نے کہاکہ نہ ایم کیویم ،نہ پیپلز پارٹی اور نہ ہی اے این پی ،حتیٰ کہ آج تک کسی نے بھی کراچی کو اپنا نہیں سمجھا،ہر ایک نے کراچی کو بری طرح لوٹا اور اس شہر کے لیے کچھ نہیں کیا، ایک وقت تھا کہ ایم کیوایم بہت زیادہ اختیارات کے ساتھ اقتدار میں تھی اور وہ چاہتے تو حقیقتاً کراچی میں ترقی کے لیے کام کرسکتے تھے۔ایم کیوایم ، پی پی اور اے این پی سب اس شہر کی تباہی کے برابر کے ذمے دار ہیں اور آج ہم جہاں کھڑے ہیںوہ ان سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہے اور ان میں سے کسی کو بھی کراچی کی کوئی پرواہ نہیں تھی جس کی وجہ سے آج شہر کو تباہ کن صورتحال کا سامنا ہے۔سراج قاسم تیلی نے کہاکہ صرف یہ سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ ہم سب کراچی کو درپیش مسائل کے ذمے دار ہیں کیونکہ ہم میں سے اکثر تنقید کرنے کے بجائے عموماً سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور حتیٰ کہ پولیس افسران کی چمچہ گیری میں لگے رہتے ہیں،ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا اور سچ بولنا ہوگا جو کہ آسان کام نہیں ہے لیکن مسائل کو حل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے،نتائج کو بالائے طاق رکھ کر ہم نے کے سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ سچ بولا جس کی وجہ سے کئی فیصلہ ساز کراچی چیمبر آنے سے آج بھی کتراتے ہیں کیونکہ ہم بہت سارے سوالات کرتے ہیں اور وضاحت بھی مانگتے ہیں۔چیئرمین بی ایم جی نے کہاکہ اگر میئر کراچی کو اس شہر کے امور چلانے کا صرف10فیصد اختیار ہے مگر انہیں پورے کراچی کی تباہی کا ذمے دار ٹہرایا جاتا ہے تو انہیں فوری طور پر استعفا دے کر گھر چلے جانا چاہیے، اگر میں میئر ہوتا تو میں تمام مطلوبہ اختیارات کا مطالبہ کرتا دوسری صورت میں عہدے سے فوری استعفا دے دیتا۔انہوں نے کہاکہ کراچی قومی خزانے میں 70فیصد اور سندھ ریونیوبورڈ کے ریونیو میں 95 فیصد کا حصہ دار ہے،پورا ملک اور سندھ اس شہر کی آمدنی سے چلتا ہے لیکن بدقسمتی سے کراچی کو بدلے میں کچھ نہیں ملتا اور وہ اب تک اپنے حق سے محروم ہے۔کے سی سی آئی کے صدر آغا شہاب احمد خان نے خطاب میں انفرا اسٹرکچر کی خستہ حالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سیوریج کے نظام اور سڑکوں کی حالت انتہائی خوفناک ہے جبکہ شہر کو تجاوزات، ٹریفک جام، ٹرانسپورٹ،پانی وگیس کی قلت کے مسائل کابھی سامنا ہے جو نہ صرف تاجروصنعتکار برادری بلکہ تمام عوام کے لیے مشکلات کا باعث ہے،ٹرانسپورٹ اور ٹریفک جام کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کراچی سرکلر ریلوے کو جلد از جلد فعال بنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔انہوں نے اسلام آباد اور سندھ کے فیصلہ سازوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرکراچی میں معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں جو کہ پورے ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

