کابل/واشنگٹن (خبرایجنسیاں)امن معاہدے کے بعد افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلااور طالبان قیدیوں کی رہا ئی کا عمل شروع ہوگیا۔امریکا نے اپنے فوجیوں کے انخلا کے آغاز کی تصدیق کر دی ہے اور بتایا گیا ہے افغانستان کے 2ہوائی اڈوں سے 4ہزار 400اہلکار وطن روانہ ہوگئے ہیں۔افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان سونی لیگیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے کے تحت 135 دن کے اندر 8 ہزار 600 اہلکاروں کو افغانستان سے نکلاجائے گا۔ علاوہ ازیں بگرام ائربیس سے طالبان قیدیوں کو بھی رہا کیا جارہا ہے۔طالبان رہنما کے مطابق جیل میں موجود قیدیوں کے بائیو میٹرک کیے گئے ہیں جس سے ان کی رہائی کا عندیہ مل گیا تھا۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں، اس سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہوگئی۔ زلمے نے مزید کہا کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان صلح کی کوشش جاری رکھیں گے۔ادھر امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے واضح کیا کہ وہ افغانستان میں مساوی حکومتوں کے قیام کے سخت مخالف ہیں ۔انہوںنے فریقین انتباہ کیا ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو تحمل کے ساتھ حل کریں۔ دوسری جانب امریکا نے طالبان سے معاہدے کی توثیق کے لیے اقوام متحدہ کو درخواست دے دی جس کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل طالبان کے ساتھ معاہدے پر ووٹنگ کرے۔
امریکی فوجیوں کا انخلا اور طالبان قیدیوں کی رہائی شروع
القمر
