شوپیان میں شہید ہونے والے مجاہدین کی بارہمولہ میں انتظامیہ نے تدفین کردی
سرینگر(ساوتھ ایشین وائر )جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں جمعہ کو شہید کیے گئے دو مقامی مجاہدین کی لاشوں کو ان کے لواحقین کے سپرد نہیں کیا گیا۔ تین دہائیوں پر مشتمل کشمیر کی عسکری تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔جموں و کشمیر پولیس کے مطابق یہ قدم وادی میں کووڈ 19 کے پھیلاو کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ‘شوپیان کے رہنے والے دو کشمیریوں کی لاشیں سری نگر کے ہسپتال میں کورونا وائرس کی جانچ کے بعد شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ پہنچائی گئیں جہاں ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔جب ان سے پوچھا گیاکہ عسکریت پسندوں کی لاشوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘حال ہی میں سوپور میں شہید ہونے والے ایک نوجوان کے جنازے میں عوامی بھیڑ امڈ آئی تھی جس کی وجہ سے کورونا وائرس کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے تھے اور انتظامیہ نہیں چاہتی کہ ایسا دوبارہ ہو۔’ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘سوپور کے ساجد نواب ڈار کے رشتہ داروں کو ہدایات دیے جانے کے باوجود جنازے میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے تھے۔ اس لیے اس بار احتیاط برتتے ہوئے لاشیں لواحقین کے سپرد نہیں کی گئیں۔’
مقبوضہ کشمیرمیں کوروناوائرس کے باوجود بھارتی فو ج نے مقبوضہ کشمیر میں چار کشمیریوں کو شہید کر دیا۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں اور کشتواڑ میں 2, 2کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔علاقے میں پابندیوں کے باوجود ہزاروں لوگوں نے بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔شمالی کشمیرکے ونی گام پٹن میں تلاشی آپریشن شروع کردیاگیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جنوبی ضلع شوپیاں میں جمعہ کی صبح فوج نے مجاہدین کی موجودگی کی طلاع ملنے کے بعد ضلع کے دیارو گاوں کو محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی آپریشن کا آغاز کیا۔ تلاشی آپریشن کے دوران مجاہدین نے فوج پر گولیاں چلائیں اور یوں وہاں جھڑپ شروع ہوگئی۔ پولیس کے مطابق اس جھڑپ میں 2 مجاہدین عاشق ساکنہ گن پورہ شوپیاں اور آصف ساکنہ بنگام شوپیاں شہید ہو گئے۔ جن کاتعلق حزب المجاہدین سے تھا ۔ دونوں نوجوانوں کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی ہزاروں کی تعدا د میں لوگوں آکر احتجاجی مظاہرے کئے او ربھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔
نوجوان نے سیکورٹی فورسز پر پتھرا وکیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ضلع شوپیان میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔پانچ گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس انکاونٹر میں مکان کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ۔
پولیس نے جمعہ کوبعد دوپہر بتایا کہ کشتواڑ کے جنگلی علاقہ دچھن میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ مختصر تصادم کے دوران2مجاہدین عاشق حسین اور بشارت حسین شہید ہوگئے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جموں پولیس نے کہا ہے کہ یہاں سے دو ہتھیار بھی بر آمد کئے گئے۔اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ کچھ روز قبل کشتواڑ کے دچھن نامی علاقے میں دو پولیس اہلکاروں کو حملے کا نشانہ بناکر ایک کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کیا گیا تھا جس کے بعد سے حملہ آوروں کا تعاقب جاری تھا۔
