حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) محکمہ خوراک سندھ کی ناقص پالیسی اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ دیے جانے جیسی صورتحال کے پیش نظر گندم کی نئی فصل کے آنے کے ڈیڑھ ماہ کے دوران ہی سندھ میں گندم کا بحران ایک مرتبہ پھر تیزی سے سر اٹھانے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گندم کی بوری پر اب تک 400 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے اور 3400 روپے میں فروخت ہونے والی گندم کی بوری کی قیمت بڑھ کر 3800 سو روپے تک جاپہنچی ہے، جس میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے، جس کی وجہ سے سندھ کے عوام کو سرکاری نرخوں پر آٹا کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک سندھ کے افسران مبینہ طور پر جان بوجھ کر ماضی کی طرح گندم کا بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں، پچھلے سال محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے گندم نہ خریدنے کی وجہ سے صوبے میں گندم کے بحران کو سراٹھانے کا موقع فراہم کیا تھا اور اب سندھ میں گندم کی نئی فصل کو ابھی ڈیڑھ ماہ کا عرصہ بھی پورا نہیں ہوا کہ گندم کی قلت پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے جبکہ سندھ کی گندم نہ ہی آٹا چکیوں اور رولر فلور ملز کے پاس اسٹاک ہے اور نہ ہی سندھ کے سرکاری گوداموں میں مطلوبہ گندم کا اسٹاک موجود ہے اور نہ ہی آٹا چکیوں رولر ملز کو انکی مطلوبہ تعداد میں گندم خریدنے دی جارہی ہے تو پھر آخر سندھ کی گندم کہاں ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال محکمہ خوراک سندھ کے کرپشن میں ملوث نیب زدہ افسران جو مبینہ طور پر اربوں روپے مالیت کی گندم چوری یا خورد برد میں ملوث ہیں اور ان کیخلاف کیسز بھی چل رہے ہیں، گندم کی خریداری پر تعینات کرکے ایک مرتبہ پھر شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق احکامات کے باوجود محکمہ خوراک سندھ کے افسران اپنی ناقص کارکردگی چھپانے کی غرض سے کراچی اور حیدر آباد کی آٹا چکیاں اور رولر ملز مالکان کی اپنی خریدی ہوئی گندم کو شہر کے داخلی راستوں پر روک کر زبردستی فوڈ گرین گوداموں پر اتارنے کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کراچی اور حیدر آباد کی اوپن مارکیٹوں میں گندم کے نرخوں میں اضافہ ہورہا ہے اور گندم نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں ملز اور چکیوں کے بند ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں اور اگر اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی تو سندھ بالخصوص شہری علاقوں میں گندم اور آٹا کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ اس تمام صورتحال پر حکومت سندھ کی مکمل خاموشی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق ذخیرہ اندوزوں نے ایک مرتبہ پھر بہت بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر گندم خفیہ مقامات پر چھپا دی ہے، جنہیں مقامی انتظامیہ اور محکمہ خوراک سندھ کے افسران کی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔ اس تمام صورتحال میں کورونا وائرس کی وباء اور لاک ڈائون سے پریشان حال سندھ کے عوام کسی مسیحا کے منتظر ہیں جو آکر انہیں محکمہ خوراک کے کرپٹ افسران سے نجات دلاسکے۔
حیدرآاباد ،محکمہ خوراک سندھ کی نااہلی،گندم کا بحران سر اٹھانے لگا
القمر
