مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی عدالت عظمیٰ نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہونے کے باوجود حکومت سازی کی اجازت دے دی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے نیتن یاہو اور حزب اختلاف کی جماعت بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے بینی گینس کی مخلوط حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے 11 ججوں پر مشتمل پینل نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ ایسی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں کہ پارلیمان کے رکن نیتن یاہو کو حکومت سازی سے روکا جائے۔ پینل کا فیصلے میں مزید کہنا تھا کہ نیتن یاہو کو اس وقت تک بے قصور ہی گردانا جائے گا جب تک ان پر الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک میڈیا ٹائیکون کو سیاسی فوائد دینے کا وعدہ کیا تھا جس کے بدلے میں ان کے حق میں خبریں نشر کی جانی تھیں۔ اس کے علاوہ نیتن یاہو پر قیمتی تحائف لینے کے بھی الزامات ہیں، تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
نیتن یاہو کو فردِ جرم عائد ہونے کے باوجود حکومت سازی کی اجازت
القمر
