جنیوا (آن لائن) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے کورونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کی ویکسین 2021ء تک تیار نہیں ہوسکتی۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ حال ہی میں امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بائیو ٹیک کمپنی موڈرینا کو تیار کردہ ویکسین کی آزمائش کے دوسرے مرحلے کی اجازت دی ہے۔ امریکی کمپنی موڈرینا کی ویکسین ایم آر این اے 1273 کا دوسرا آزمائشی مرحلہ شروع ہوتے ہی عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، دنیا میں کوئی بھی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین 2021ء کے آخر تک سامنے نہیں آسکتی۔ عالمی ادارہ صحت کے عالمی وبا کے الرٹ اور ریسپانس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ڈیل فشر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نئی ویکسین کی آزمائش کے 3 مرحلے ہوتے ہیں،اس دوران دوا کو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں پر آزمایا جاتے ہے، اگر یہ تینوں مراحل کامیاب ہوبھی جائیں تو اس کے بعد دوا کی تیاری اور ترسیل کے بھی مزید 2 اور مرحلے ہوتے ہیں اور ان تمام مراحل کو مکمل کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ جائے گا اور یوں کوئی بھی ویکسین 2021ء کے اختتام سے قبل دستیاب نہیں ہوگی۔
کورونا کی کوئی ویکسین 2021ء تک تیار نہیں ہوسکتی، عالمی ادارہ صحت
القمر
