افغانستان کے صوبے ننگرہار میں جنازے کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ننگرہار کے ضلع خیوا میں نمازجنازہ کے اجتماع پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں کم ازکم 40 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ترجمان ننگرہارگورنر آیت اللہ خوگیانی کا کہنا ہے کہ سابق پولیس کمانڈر کی نماز جنازہ کے لیے جمع ہونے والے افراد کے درمیان خودکش حملہ آور نے داخل ہوکر دھماکا خیز مواد سے خود کو اڑا دیا۔
صوبائی کونسل کے رکن سہراب قادری کا کہنا ہے کہ خودکش حملے میں کم از کم افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں جب کہ رکن پارلیمنٹ حضرت علی محفوظ رہے ہیں۔
طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
پاکستانی سرحد کے قریب واقع ننگرہار صوبے میں شدت پسند تنظیم داعش اور طالبان کے مابین مسلح جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور دونوں تنظیموں کا اس علاقے کو گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب کابل کے مغربی حصے میں حملہ آوروں نے میٹرنٹی اسپتال پر دھاوا بول دیا، پولیس اور حملہ آوروں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد بچوں اور خواتین کو بحفاظت نکال لیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
